وفاق جی بی میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈزفراہم کرے۔۔۔اداریہ

download-1.jpg

عوامی مطالبات کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومتوں نے گلگت بلتستان میں کئی میگا منصوبے نہ صرف شروع کیے بلکہ انہیں تکمیل تک پہنچایا گیا جن میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، سدپارہ ڈیم، بلتستان یونیورسٹی، جگلوٹ سکردو روڈ توسیعی منصوبہ، گلگت کینسر ہسپتال سمیت کئی ایک منصوبے شامل ہیں ان منصوبوں پر اربوں روپے وفاق نے گلگت بلتستان کے عوام کو سہولیات باہم پہنچانے کیلئے جاری کیے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ان میں سے چند ایک منصوبے خطیر رقم لگنے کے باوجود ناکام نظر آ رہے ہیں جن میں سے سدپارہ ڈیم کا منصوبہ جو اپنی افادیت کھو چکا جبکہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے حوالے سے بتایا جا رہا تھا کہ سدپارہ ڈیم مکمل ہونے کے بعد بلتستان ڈویژن میں بجلی کی کمی نہ صرف پوری ہو جائے گی بلکہ وافر بجلی کی پیداوار کا بھی بتایا جا رہا تھا اسی طرح چند ایک اور بھی منصوبے مکمل تو ہوئے مگر وہ کامیابی سے رواں دواں نظر نہیں آ رہے یہ درست ہے کہ گلگت بلتستان کو ملانے والی شاہراہ قراقرم اگر بلاک ہو جائے تو پٹرولیم مصنوعات سمیت روز مرہ استعمال کی چیزیں گلگت بلتستان میں ناپید ہونا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ بابو سر روڈ کا اگر ذکر کیا جائے تو یہ صرف سال میں چار ماہ گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے ہے اس لیے گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے شونٹر پاس منصوبے کے آغاز کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں گزشتہ سالوں حکومت میں امید کی جا رہی تھی کہ یہ منصوبہ نہ صرف منظور ہو کر رہے گا بلکہ اس پر کام کا آغاز بھی ہو کر رہے گا مگر جگلوٹ سکردو روڈ توسیعی منصوبے کی منظوری اور کام شروع ہونے کے باعث شاید وفاق شونٹر منصوبے پر توجہ نہ دے سکا جب 2020ء میں گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے باگ دوڑ سنبھالی تو وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان متعدد مرتبہ سابق وزیراعظم سے ملاقاتیں کرتے نظر آئے اس دوران امید پیدا ہو گئی تھی کہ گلگت بلتستان کے میگا منصوبوں کی شروعات کے ساتھ شونٹر پاس منصوبے پر بھی کام شروع ہو جائے گا مگر وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد گلگت بلتستان کے میگا منصوبے ایک بار پھر سرد خانے کی طرف چلے گئے گزشتہ روز وزیراعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو شدید مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے اس لیے شونٹر پاس منصوبے کیلئے فنڈز نہیں دیئے جا سکتے گلگت بلتستان کو پچھلے سال کے برا بر بجٹ دیدیا۔جمعہ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین پروفیسر سینیٹر ساجد میر کی زیر صدار ت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اس موقع پرسینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ شونٹر منصوبہ آبادی کو مدنظر رکھ کر یا دفاعی اہمیت کے باعث؟ جس پر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ علاقے میں تو آبادی بہت کم ہے مگر شونٹر پاس دفاعی اعتبار سے اہم ہے اور یہ متبادل روٹ ہو گا۔ چیف سیکرٹری آزاد جموں وکشمیر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں وفاقی حکومت کی مدد سے شونٹر منصوبہ پر کام کرینگے ، منصوبے میں بارہ کلومیٹر کا ٹنل اور 121کلومیٹر پر محیط سڑک بننی ہے، اس منصوبے کے ذریعے آزاد کشمیر کو گلگت بلتستان کے ضلع استور کے علاقے رتو کیساتھ ملایا جائے گا، منصوبے پر مجموعی طور پر 69758.591ملین کی لاگت آئے گی۔پلاننگ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شونٹر پاس منصوبے کی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی(سی ڈی ڈبلیو پی)سے منظوری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی فورم پر اٹھانا چاہیے۔قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ اسلام آبادمسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا اپنا اخلاقی، قانونی اور سیاسی فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے، یاسین ملک کی بھارتی جارحیت کے خلاف طویل جدوجہد ہے،پاکستان مسئلہ کشمیر کو دنیا کے تمام فورمز پر بھرپور انداز سے اجاگر کر رہا ہے ، مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان نے کمیٹی کو بتایا کہ گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کے حوالے سے سو سے زائد انتہائی خطرناک مقامات ہیں،گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے سروے کے لیے ریڈار سسٹم گلگت بلتستان پہنچ چکا ہے۔ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان جیسے پسماندہ علاقے کیلئے بجٹ کی تقسیم میں کٹوتی سے اجتناب کرتے ہوئے حسب سابق چھوٹے صوبے کے ساتھ ہمدردانہ رویہ دیکھانا ہو گا ایک طرف صوبائی حکومت بجٹ میں کٹوتی کے الزامات لگاتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ سرکاری مشینری چلانے کیلئے 15 ارب روپے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کام کیلئے وفاق نے 6 ارب روپے رکھے ہیں ایسے میں گلگت بلتستان کی سرکاری مشینری کیسے چلی گئی دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر آزاد کشمیر و گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ سابقہ سال کی طرح اس سال بھی اتنا ہی بجٹ گلگت بلتستان کو دیا گیا ہے ایک طرف صوبائی حکومت جی بی کے بجٹ کٹوتی کے حوالے سے الزامات دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر کا یہ برملا اظہار کہ بجٹ میں کٹوتی نہیں کی گئی اس ساری صورتحال میں گلگت بلتستان کے عوام تزبذب کا شکار ہو کر رہ گئے اس معاملے کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سیاسی وفاداریاں اور پوائنٹ سکورنگ سے بالاتر ہو کر عوام کو درست اور حقائق پر مبنی معلومات دینی چاہیے۔

شیئر کریں

Top