پنجاب میں چکی آٹے نے سارے ریکارڈ توڑ دیے، قیمت 165 روپے تک جاپہنچی

123-80.jpg

لاہور: پنجاب میں عوام آٹے کیلئے خوار ہوگئے،چکی آٹے کی 165 روپے قیمت نے پچھلے تما م ریکارڈ توڑ دیئے ۔

نانبائیوں نے روٹی نان کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ۔ چکی مالکان اور نانبائیوں نے سبسڈائزڈ گندم ،آٹے کی فراہمی کا مطالبہ کردیا۔
فلورملز کو سبسڈائزڈ گندم کی ریکارڈ فراہمی بھی آٹے کی دستیابی یقینی نہ بنا سکی۔سرکاری آٹے کا 10 کلو کا تھیلا 648 روپے پر بھی مارکیٹ میں طلب کے معاملے پر ناپید، نجی آٹے کا پندرہ کلو کا تھیلا 1800 سے 1850 روپے میں فروخت، چکی آٹے کی قیمت 165 روپے فی کلوکی تاریخی سطح تک پہنچ گئی۔
حال ہی میں تقرری کے بعد سیکر ٹری فوڈ پنجاب نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اسپیشل ٹیمیں بنا کر خود ناکوں اور فلورملز کی چیکنگ کرنا شروع کردی۔
سرکاری گوداموں سے روزانہ 23 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ریلیز کے باوجود مارکیٹ میں سبسڈائزڈ آٹے کے حصول کیلئے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ۔
محکمہ خوراک کے دعوے کے مطابق پنجاب میں روزانہ سبسڈائزڈ آٹے کے 5 لاکھ تھیلے فراہم کیے جارہے ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق پنخاب کی فلور ملز کو روزانہ ریکارڈ سبسڈائزڈ گندم ریلیز کی جارہی ہے جس کی قیمت 2300 روپے فی من ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں نجی گندم کہ قیمت4200 روپے سے 4300 فی من تک پہنچ چکی ہے۔
اس طرح فی من قیمت میں 2000 روپے کا واضح فرق ہے جس سے پنجاب سے گندم کی اسمگلنگ کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے روزانہ ریلیز کیے جانے والے کوٹے میں سے 40 فیصد تک گندم اسمگل کی جارہی ہے جس میں سے کچھ مقامی مارکیٹ میں اور باقی دیگر صوبوں میں فروخت کردی جاتی ہے ۔
اس طرح سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تو پنجاب میں وافر سبسڈائزڈ آٹا ہے لیکن عملی طور پر پنخاب میں5 لاکھ کے سرکاری عدد کی بجائے روزانہ سبسڈائزڈ آٹے کے 2 سے اڑھائی لاکھ تک تھیلے بنائے جارہے ہیں ۔
سرکاری پوائنٹس اور ٹرکوں کے باہر عوام کی اکثریت لمبی قطاروں میں لگنے کے باوجود گھنٹوں بعد بھی آٹا حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک پنجاب کے پاس اس وقت 15 لاکھ ٹن گندم موجود ہے، وفاق سے پنجاب نے 25 لاکھ ٹن گندم مانگی ہے اور وفاق نے پنخاب کو گندم فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ پنجاب سے اگر یونہی گندم کی ریلیز جاری رہی تو پنجاب کے ذخائر 15 مارچ تک ختم ہوجائیں گے جبکہ آگے رمضان المبارک کیلئے گندم کا انتظام مشکل ہوجائے گا۔
اس وقت مارکیٹ میں 10 کلو کا سرکاری آٹے کا تھیلا طلب کے مطابق مل نہیں رہا، نجی آٹے کا 15 کلو کا تھیلا 1800 روپے سے زائد قیمت پر فروخت ہورہا ہے چکی مالکان نے آٹا 165 روپے فی کلو کردیا ہے ۔ مہنگے آٹے سے روٹی کی قیمت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔
متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب گل نے “ایکسپریس “سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک ہمیں سبسڈائزڈ گندم یا آٹا فراہم نہیں کررہا،ایسے میں مارکیٹ سے مہنگا آٹا خرید کر سستی روٹی فروخت نہیں کرسکتے۔
آٹا چکی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں گندم کا روز نیا ریٹ ہے آج 4300 روپے فی من ہے، مہنگا ڈیزل،مہنگی بجلی کی وجہ سے پسائی کی خرچہ بڑھ چکا ہے، یہی وجہ ہے متعدد چکیوں نے آٹے کی پسائی بند کر دی ہے ۔
سیکرٹری خوراک پنجاب محمد زمان وٹو نے “ایکسپریس “سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹے بحران سے لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے، گندم آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے خصوصی ٹیمیں بنادی ہیں۔ میں خود چیکنگ کرونگا۔
انہوں نے کہا کہ کرپٹ افسران کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں،وہ اپنا قبلہ درست کرلیں،کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، کوٹہ حاصل کرنیوالی فلور ملز کے تین مہینے کے بجلی کے بلوں کے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے ۔تمام ڈپٹی ڈائریکٹرز اپنے ایریا کی فلور ملز کے گندم کے کوٹے کے مطابق پسائی اور بجلی کے استعمال کا سرٹیفکیٹ دینگے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام اور گھوسٹ فلور ملز کو پکڑنے کیلئے کوٹہ حاصل کرنیوالی ملز کی تعداد، ایڈریس اور کوٹے کی مقدار ویب سائٹ پر ڈالنے کا حکم دیا ہے تاکہ عوام کو تمام معلومات تک رسائی حاصل ہوسکے ۔
انہوں نے اپیل کی کہ عوام ویب سائٹ کے ڈیٹا کے مطابق اپنے علاقے کی فلور ملز کو چیک کریں کہ فلور ملز موجود ہے اور اگر ہے تو وہاں پسائی ہو رہی ہے۔اس طرح آپ اپنی ذمہ داری ادا کرکے قومی خزانے سے سبسڈی کی مد میں دیئے جانیوالے اربوں روپے کے غلط استعمال کو روک سکتے ہیں ۔

شیئر کریں

Top