کہیں ہم ناکارہ تو نہیں۔۔۔! محمد محبوب اعوان

قارئین کرام میرے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ معاشرے کی اس حقیقت کی عکاسی کریں گے جو موجودہ دور میں ہمیں معاشرے میں ہر طرف نظر آئیں گے ۔اخلاقی اقدار سے معاشرہ آہستہ آہستہ دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔بنیادی وجہ تو سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے دین سے دور ہو چلے ہیں دین سے دوری کی وجہ سے اپنے سماج میں اچھی روایات ،اپنے کلچر اپنی ثقافت سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں ۔دوسرا اہم بنیادی نقطہ یہ بھی ہیکہ سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے ہماری اخلاقی اقدار کا جنازہ نکا ل دیا ہے ایک دوبار راولپنڈی سے اسلام آباد کے لیے میٹرو بس سروس میں سفر کرنے کا موقع ملا تو بہت سی باتیں مشاہدے میں آئیں جن میں سے کچھ باتوں پر جب دھیان دیا تو معلوم ہوا کہ یہ تمام تر باتیں تو مجھ میں بھی موجود ہیں اور ذہن میں اچانک ایک خیال ابھر اکہ کہیں میں بھی اس معاشرے کا ناکارہ فرد تو نہیں ! میٹروبس کے خوبصورت سٹیشن سے جیسے ہی اندر داخل ہونے کے لیے قدم رکھا تو ائیر کنڈیشنز کی ٹھنڈی ہوا نے گرمی کاسکتہ ختم کر دیا مگر ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ سٹیشن پر میری طرح کے موجود بہت سے لوگ ٹکٹ کے انتظار میں لائن میں لگے ہوئے ہیں اور کچھ ساتھ موجود بیٹھے ہیں مگر سب کے ساتھ ایک بات مشترکہ نظرآئی کہ سب سے ہاتھوں میں موبائل پکڑے ہیں سب سے پہلے میں نے اپنا موبائل پاکٹ کی نذرکیا کہ ہماری زندگی صرف موبائل کی محتاج ہو چکی ہے ارد گرد کون کس پریشانی کے عالم میں کس کا کیا دکھ ہے کوئی کس تکلیف ہے ہمیں محسوس ہی نہیں ہو رہا کیونکہ ہم اور ہماری نظریں صرف موبائل میں جمی رہتی ہیں بحرکیف میٹروبس کی سہولت سے استعفادہ کرنے والوں میں زیادہ تر طالبعلم ہیں جو راولپنڈی سے اسلام آباد مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم کی پیاس بھجانے جاتے ہیں اہم بات یہ ہیکہ ان میں سے سب پروفیشنلز ہوتے ہیں کوئی میڈیکل کی تعلیم کے لیے تو کوئی انجنئیر بننے کے لیے علم کے دریچوں کی جانب محو سفر ہوتے ہیں اب ٹکٹ لینے کے بعد جیسے ہی بس کے گیٹ قریب پہنچنا ہوا تو بس میں جانے والوں کی لمبی اور بے ہنگم قطار بنی ہوئی نظر آئی۔جس میں معاشرے کا ایک وہ طبقہ جسے ہم سب نے دھتکارا ہوا ہے بہت پریشان دکھائی دیا ۔ اس اہم طبقہ سے مراد ہے کہ وہ لوگ جو انٹرنیٹ کا استعمال نہیں جانتے ان کے پاس بڑے بڑے موبائل نہیں ہیں وہ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے نظر آئے اور اکثریت طالبعلم موبائل میں مصروف نظرآئے ۔خیر مختصر انتظار کے بعد گاڑ ی آپہنچی جس میں دھکم پیل کے بعد سب جانوروں کی طرح اندر گھستے نظرآئے میڑوبس دوحصوں میں تقسیم کی گئی ہے جس میں ایک حصہ خواتین کے لیے تو دوسرا مر دحضرات کے لیے ہے اور اچھی بات یہ ہیکہ معذور افراد کے لیے ترجیحی نشتیں بھی مخصوص کی گئیں ہیں جن پر صرف معذور افراد کو بیٹھنے کی اجازت ہے مگر میڑو بس کا یہ سفر میرے لیے اس وجہ سے خوشگوار ثابت ہوا کہ ہماری اخلاقی اقدار تباہ و برباد ہو چکی ہیں طالبعلم بڑے بڑے ہیڈ فون لگائے موبائل میں مصروف ہیں گانوں کی آوازیں باہر آرہی ہیں کوئی کال پر اونچی اونچی باتیں کرنے میں مصروف ہے اور آس پاس کے مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے بزرگ کھڑے ہیں خواتین کے سیکشن میں بزرگ اور ادھیڑ عمر خواتین کھڑی ہیں اور باقی سیٹوں پر بیٹھے موبائل میں ایسے مگن ہیں جیسے کسی بہت بڑے پراجیکٹ پرکام کیا جا رہاہے۔انتہائی معذرت کے ساتھ جب بس میںبیٹھے ہوئے مسافروں کے علاوہ کھڑے ہونے کے لیے اتنی ہی گنجائش ہوتی ہے کہ چند مسافر کھڑے ہو سکیں مگر طالبعلم اس بات سے عاری ہیں اور گھستے چلے جاتے ہیں اور جہاں دس افراد کھڑے ہو سکتے ہیں وہاں تیس افراد کھڑے ہو جاتے ہیں اس طرح صرف ان کو دوٹانگوں کے سہارے کی ضرورت نظرآتی ہیکہ بس کھڑے ہونے کی جگہ مل جائے تو موبائل پر مصروف ہو جاتے اور اردگرد کی ماحول سے پھر بے خبری۔ میٹروبس کے لیے حکمت عملی بہت اچھی بنائی گئی ہے کہ ہر دومنٹ بعد گاڑی مقررہ وقت پر پہنچ جاتی ہے مگر ہم محض دو منٹ بھی انتظارنہیں کرتے اور جانوروں کی طرح کوشش کرتے کہ اسی گاڑی میں سوار ہوا جائے اور کسی طرح منزل پر پہنچ جائیں حالانکہ صرف دو منٹ بعد گاڑی نے پھر سے آنا ہوتا ہے اب اخلاقیات کا جنازہ کیسے نکلتا ہے جب خواتین کے سیکشن میں مرد کھڑے نظرآئے اور خواتین کو گھورا جا رہا ہے اونچی اونچی آواز سے آپس میں ایسے لہجے سے باتیں کی جارہی ہیں جو نامناسب ہو تا ہے کہ خواتین کے سامنے ایسے الفاظ کا بولناغیر مناسب اور اخلاقی اقدار کے منافی ہوتا ہے۔ اگر کوئی میٹروبس کا مسافرطالبعلم کی نظروںسے میرے یہ چندٹوٹے پھوڑے الفاظ گزریں تو گزارش خدمت ہیکہ میٹرو میں سفر کے دوران اگر کھڑے ہونے کے لیے جگہ نہیں ہے تو انتظار کر لیا جائے ،اگر سوار ہوجائیں گاڑ ی میںموبائل کا استعمال تھوڑی دیر کے لیے ترک کر دیں اور خواتین کے سیکشن میں جانے سے گریز کریں اسی طرح کوئی خاتون کی نظر سے یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ گزریں تو گزارش خدمت ہیکہ انتظامیہ سے اصرار کر کے خواتین کے سیکشن میں پارٹیشن کروائی جائے تاکہ دوران سفر وہ خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔ اگر میں اور ہم سب چائیں گے تو ہم خود میں معاشرے میں اچھی تبدیلی لا سکتے ہیں مثبت تبدیلی کے لیے صرف ہمیں چند اصول اپنانے ہوں گے جیسے ہم ملکر یہ روایت بنا دیں کہ بس میں گنجائش ختم ہونے کی صورت میں اگر کوئی سوار ہونا بھی چاہے تو ہم نرم لہجے میں ان کو سمجھائیں کہ گاڑی صرف دو منٹ بعد پھر آجائے گی مگر ہم تہذیب کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑیں،ٹکٹ کے حصول کے لیے جب قطار میں کھڑے ہوں تو جب موبائل پاکٹ میں ہوگا تو ہم ارد گرد دیکھ سکیں گے اور کسی بوڑھے کو ہم بٹھا کے ٹکٹ اسے وہاں لے جا دیں اگر کوئی معذور فرد موجود ہے تو اسے ٹکٹ بھی ہم لے دیں اس طرح یہ تمام معاملات میں ہم اپنا حصہ صرف اس وجہ سے ڈال سکتے ہیں جب ہمارا موبائل فون پاکٹ میں ہوگا تو تب ہم اس رنگین دنیا میں ہوں گے اور یاد رکھئیے نماز پانچ وقت کی فرض ہے مگر اخلاق چوبیس گھنٹے فرض ہے۔

 

شیئر کریں

Top