جرمنی عدالت نے 5سال بعد لاؤڈ سپیکر پر اذان کی اجازت دیدی

26576-scaled-1.jpg

درخواست گذار کا موقف بے بنیاد ہے، دیگر مذاہب کی طرح مسلمان بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کر سکتے ہیں، عدالت
برلن(آئی این پی) جرمنی کی عدالت نے لاڈ اسیپکر پر اذان دینے کی اجازت دیتے ہوئے پابندی کی درخواست مسترد کردی،فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کا اعتراض کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی عبادات کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں میقم مسیحی جوڑے نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان رکوانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی جس کا پانچ برس بعد 23 ستمبر کو عدالت نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے اس کیس کو خارج کرتے ہوئے لاڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی۔فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رائین ویسٹو فیلیا ریاست کے شہر اویر ایرکینسوک میں واقع مسجد سے قانون کے مطابق لاڈ اسپیکر پر اذان دی جارہی تھی۔مسیحی جو(باقی صفحہ 6بقیہ نمبر8)
ڑے اور مقامی باشندوں نے 2015 میں عدالت میں درخواست دائر کی جس کے بعد لاڈاسپیکر پر اذان دینے پر فوری پابندی عائد کردی گئی تھی۔مسلم کمیونٹی نے کیس کے دفاع کے لیے وکلا کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے عدالت میں اپنا بھرپور موقف پیش کر کے فتح حاصل کی۔عدالت نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا اعتراض کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی عبادات کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے ہیں۔پریزائڈنگ جج اینیٹ کلیس چنٹائیگر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہمیں اذان کو قبول کرنا چاہیے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ عوام ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں، اس درخواست کی کوئی بنیاد نہیں تھی، بلکہ مذہبی تفریق کی وجہ سے اذان دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شیئر کریں

Top