محبت، خلوص اور حق کا رستہ عمران محمود

محبت کی گلیوں میں بسنے والے لفظوں کی حدود و قیود سے آزاد ہوتے ہیں۔۔۔دراصل ،وہ محب ہوتے ہیں جو اِن گلیوں میں اپنے محبوب کی تلاش میں پھرتے ہیںاور محبوب کو پا لینے کی صورت میں وہیں پر ڈیرہ نشین ہوجاتے ہیں۔ یہاں محبوب سے مراد مرشد، پیر اور شیخ ہے ۔۔۔ اور محب سے مراد مرید ۔۔۔ محب کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کا زیادہ سے زیادہ وقت اس کے محبوب کے قدموں میں گزرے۔ اس کی آنکھوں میں بس محبوب ہی کی صورت بسی رہتی ہے۔اور یوں محبوب اور محب یعنی مرشد و مرید کا ایک مضبوط اور ابدی تعلق قائم ہو تا ہے جس سے مرید کی زندگی سنور جاتی ہے۔ ۔۔مرشد و شیخ ہی وہ ہستی ہے جو اپنے محب مریدکو ظلمت و تاریکی سے بچا کر حق و روشنی کی طرف لے آتا ہے۔ ۔۔
مرشد اپنے مرید کو آنکھوں سے پلاتا ہے۔ یعنی وہ ساقی ہے اور مرید رند۔ ۔۔مرشد اپنے رندان کو اپنی باتوں ، محبت اور عطاء شدہ فیوض کا جام پلاتے ہیں۔۔۔یہ و ہ گلیاں ہیں جہاں سچائی اور مستی والی دنیا آباد ہے۔یعنی نعرہِ مستانہ کی تعبیر۔۔۔یہ اس عارضی دنیا کے لالچوں سے بے غرض لوگوں کی ایک بستی ہے۔۔۔
محب اور محبوب کے رشتے میں سب سے اہم اور ضروری چیز ہے اخلاص۔۔۔ اپنی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر، دوسروں کے لیے سوچنے کا نام اخلاص ہے۔۔۔یعنی دنیا کی لالچوں سے بے غرض ہو جانا۔۔۔پاکیزہ اور شفاف محبت کی بنیاد بھی اخلاص ہے۔ حق کا رستہ بھی اخلاص سے طے ہو سکتا ہے اور محبت سے۔۔۔ محبت اور اخلاص کے بنا حق تک پہنچنے کا کوئی بھی دعویدار نہیں ہو سکتا۔ سچی محبت کرنے والا ،اخلاص پا ہی لیتا ہے۔ اور مخلص کا راستہ محبت ہے۔۔۔ یہ دونوں عناصر مل کر حق تک لے جاتے ہیں۔ باقی ان سے منسلک چیزیں بھی قیمتی ہیں۔ آئیے !ہم محبت و اخلاص اور حق کے رستے کی حسب ذیل چارلازوال مثالوں کاباریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہیں:۔
۱۔تمام محبتوں کی انتہاء میرے کریم آقاﷺ نے کی۔ آپ ؐ محبت کی ابتدا بھی ہیں اور انتہا بھی۔ ساری ساری رات اللہ کی یاد میں جاگنا اور امت کے لیے رونا، یہ اخلاص اور محبت کی معراج ہے۔ تمام رات قیام، یہ حق کے ساتھ عشق کی انتہاء ہے۔ اللہ کو اپنے حبیب ؐ سے فرمانا پڑا، میرے حبیب ؐ اتنا غمگین نہ ہو ا کریں، اپنے قیام کو کم کر دیں ۔۔ یہ محب اور محبوب کی محبت کی انتہا ء ہے۔ ۔۔ یہاں محب اور محبوب کے رشتے کو سمجھنا ہم لوگوں کے ادارک اور دائرہ کار سے باہر ہے۔۔۔ ہماری فہم یہاںناکام ہو جاتی ہے۔
کالی کملی والے پیارے، آقا تجھے سلام
رب کے راج دلارے، آقا تجھے سلام
۲۔نبی کریمﷺ کی آلِ پاک نے آپ ؐ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، حق کے رستے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کربلا میں امام حسین ؑنے محبت اور اخلاص سے اپنے اہل بیتؑ کے ساتھ قربان ہو کر جو داستانِ حق رقم کی، وہ تاقیامت ہمارے دلوں زندہ رہے گی۔ زمانے کے لیے اس کو فراموش کرنا، ناممکن ہے۔ ۔۔یہی حق کا رستہ ہے۔
۳۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بڑھاپے کے سہارے کے لیے اولاد کے لیے دعا مانگی، اللہ نے ان کو اسماعیلؑ عطا کیا۔ لیکن ساتھ ہی اسما عیل ؑ کو قربان کرنے کی آزمائش بھی دی ۔ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے سے بڑھ کرمحب۔ باپ اللہ کی رضا کو پورا کرنے کے لیے محبت اور اخلاص سے اپنے اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کے لیے تیار۔۔۔ اور اسماعیل ؑ، اللہ سے محبت اور ملاقات کے لیے قربان ہونے کے لیے تیار۔۔۔ اللہ نے اس قربانی کو بھی قیامت تک کے لیے یادگار بنا دیا۔۔۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی
۴۔فرعون کی باندی نے اللہ اور موسیٰ علیہ السلام پر ایمان اورآپؑ کی محبت کی خاطر اپنی دوبچیوں کے ساتھ اپنی جانیں قربان کیں۔ اللہ نے زمین کے اس ٹکڑے کو جہاں وہ تینوں دفن ہیں، جنت کی خوشبوؤں سے معطر کر دیا جسے ہمارے نبیؐ نے معراج کے موقعہ پر محسوس کیا اور جبرائیلؑ نے آپ ؐ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تھا۔ یہ خوشبو زمین کے اس ٹکڑے سے قیامت تک آتی رہے گی۔ حق کے رستے میں عشق و محبت کی لازوال داستان۔
مخلص اور اخلاص کو کھونے والا، ان کی قدر نہ کرنے والا،بے قدرہ بندہ کبھی بھی حق کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ محبت اور خلوص میں عاجزی وہ قیمتی و نایاب عنصر ہے جو حق شناسی کرا دیتا ہے۔ لہٰذا حق کو پانے کے لیے اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کی پہچان کرنا ضروری ہے، اس کے لیے خلوص شرط ہے۔یہی حق ہے۔۔۔ اور غیر مخلص کبھی بھی حق کے رستے کی خوشبو تک بھی نہیں سونگھ پاتے ۔۔۔ مخلص کو پانا آسان ہے ،لیکن ڈھونڈھنا شرط۔۔۔۔مخلص کی پہچان کیسے کریں۔۔۔جب قدرت ہمیں آزمائش میں ڈالے ، ہم پر عارضی مشکل و مصیبت آن پڑے، ایسے میں سب ہمیں چھوڑ جائیں، لیکن مخلص ساتھ نہیں چھوڑے گا۔۔۔ یہ اللہ کا قانون ہے کہ ہر مشکل نے ختم ہو کر آسانی میں ضرور بدلنا ہے۔ حق کے رستے میں مشکلات جھیلنے والے، میرے نبیؐ کے رستے پر ہیں۔ اور یہی صراط مستقیم ہے۔
حق فہمی نعمت بھی ہے، عطا ء اور طلب بھی۔۔۔ اللہ سے محبت حق ہے۔ نبی ﷺ کی غلامی حق ہے۔ سچے اور کھرے مرشد کی پیروی حق ہے۔ والدین کا ادب حق ہے۔مخلوق سے محبت حق ہے۔ غریبوں کی امداد کرنا حق ہے۔ کمزوروں کا ساتھ دینا حق ہے۔ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا حق ہے۔یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھنے والا حق ہے۔ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا اور چاہت پر قربان کر دینا حق ہے۔ سچائی حق ہے۔ ۔۔اگر ہم میں یہ صفات موجود ہیں تو ہمارے لیے مبارک باد ہے کہ ہم حق کے رستے پر ہیں۔۔۔اپنی من مانی کرنے والے، دوسروں کا نقصان کرنے والے، سازشیں کرنے اور سازشوں کا حصہ بننے والے، غریبوں سے فاصلہ رکھنے والے، کمزوروں کو ایذا پہچانے والے ،بربادی اور ظلمت کے رستے پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں محبت و اخلاص عطا کرے تا کہ ہم حق کا رستہ خوش اسلوبی سے طے کریں۔ آمین۔

شیئر کریں

Top