قائمہ کمیٹی دفاع کی سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے وزارت داخلہ کو دیگروزارتوں ،محکموں اور صوبوں کے ساتھ مشاورت کرکے تجاویز کاڈرافٹ لانے کی ہدایت

cybercrime.jpg

کمیٹی کا سائبر کرائم کی روک تھام کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار
سیکرٹری داخلہ کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار
بہت زیادہ شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں،2016 اور 2018 کی نسبت ہمارا کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیاہے،پچھلے سال سائبرکرائم کے حوالے سے 94 ہزار سال شکایتیں آئی تھیں اس سال 44 ہزار شکایات ہو چکی ہیںایف آئی اے حکام
2020 میں نیکٹا کی ہیلپ لائن پر پانچ لاکھ 18 ہزار 333 شکایات موصول ہوئیں ، پاکستان میں 71 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 37 ملین ہے، نیکٹا حکام
ہمیں تھریٹ کیوں آتے ہیں؟تھریٹ صرف عوام کے نمائندوں کو ہے؟ مجھے ابھی تھریٹ آیا ہے، مجھے کسی کا ڈر نہیں، کوئی ہمیں تھریٹ کررہا ہے کوئی گالی دے رہا ہے،رکن کمیٹی ریاض حسین پیرزادہ
اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے سائبر کرائم کی روک تھام کے لئے وزارت داخلہ کو دیگروزارتوں ،محکموں اور صوبوں کے ساتھ مشاورت کرکے تجاویز کاڈرافٹ لانے کی ہدایت کردی کمیٹی نے سائبر کرائم کی روک تھام کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جبکہ سیکرٹری داخلہ کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا،ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہا کہ بہت زیادہ شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں،2016 اور 2018 کی نسبت ہمارا کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیاہے،پچھلے سال سائبرکرائم کے حوالے سے 94 ہزار سال شکایتیں آئی تھیں اس سال 44 ہزار شکایات ہو چکی ہیں جبکہ نیکٹا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2020 میں نیکٹا کی ہیلپ لائن پر پانچ لاکھ 18 ہزار 333 شکایات موصول ہوئیں ، پاکستان میں 71 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 37 ملین ہے، رکن کمیٹی ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ ہمیں تھریٹ کیوں آتے ہیں؟تھریٹ صرف عوام کے نمائندوں کو ہے؟ مجھے ابھی تھریٹ آیا ہے، مجھے کسی کا ڈر نہیں، کوئی ہمیں تھریٹ کررہا ہے کوئی گالی دے رہا ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا چیئرمین کمیٹی اجلاس چیئرمین کمیٹی امجد علی خان کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں سائبر کرائم سے متعلق معاملہ زیر غور آیا، کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ کی اجلاس میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا،اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکرٹری داخلہ کی طبیعت خراب ہے اس لیئے آج وہ نہیں آ سکیں گے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ میٹنگ میں ان کو موجود ہونا چاہیئے،اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف آئی اے کے اندر ذیلی کمیٹی بنا دی ہے، ٹویٹر، فیس بک اور دوسری ایپس والوں کے ساتھ ہمارے معاہدے نہیں ہیں، پہلے ان کے ساتھ معاہدے کرنے پڑیں گے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے کمیٹی اس معاملے پر بحث کررہی ہے، نیکٹا نے جو اعدادو شمار دیئے تھے وہ حیران کن تھے،چند لوگوں کے خلاف ایکشن ہوا،زیادہ تر تو اگر مگر میں کام چل رہا ہے،آپ نے عملی طور پر کتنا کام کیا ہے، کتنے لوگوں کے خلاف ایکشن ہوا، 2020 میں کمیٹی نے ہدایات دی تھیں، آپ دن رات اس پر کام کرتے،ہم مطمئن نہیں ہیں،ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بہت زیادہ شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں،لاہور، گوجرانوالا، اسلام آباد سے بہت شکایات آتی ہیں،ٹویٹر بہت کم جواب دیتا ہے،ڈیفامیشن پر وہ بالکل جواب نہیں دیتے، 2016 اور 2018 کی نسبت ہمارا کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا ہے،وی پی این کو مکمل بند بھی نہیں کیا جاسکتا، کچھ پیچیدہ مسائل ہیں،ہم کوشش کررہے ہیں،بہتری آئے گی، صبح سے شام تک ہماری ٹیمیں کام کر رہی ہوتی ہیں، ٹریننگز بھی ریگولر کرانی پڑتی ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اتنی استعداد نہیں ہے، ہر دوسرا تیسرا آدمی سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے، جب آپ کے پاس اتنے مسائل ہیں، اکیلے ایف آئی اے سے کچھ نہیں ہونے والا، ایک پالیسی لے کر آئیں کہ اس کے نتائج آئیں۔ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پیکا ایکٹ بہت سافٹ ہے اس میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ذکر نہیں تھا، کچھ چیزیں غائب تھیں،وہ ہم نے سفارشات دی ہوئیں ہیں،رکن کمیٹی رمیش کمار نے کہا کہ ہمارے محکموں میں کوآرڈینییشن نہیں ہے،وزارت داخلہ، دفاع، پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی کوآرڈینیشن ہونی چاہیئے،کوآرڈینیشن جب تک نہیں ہوگی مسئلے کا حل نہیں ہو گا،ملک میں گرے ٹریفک کا بڑا مسئلہ ہے،رکن کمیٹی کنول شوذب نے کہا کہ میں نیاسمبلی میں اسرائیل کے خلاف تقریر کی توٹویٹر پر میرے خلاف مہم چلی،ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہا کہ پچھلے سال سائبرکرائم کے حوالے سے 94 ہزار سال شکایتیں آئی تھیں اس سال 44 ہزار ہو چکی ہیں، نیکٹا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2020 میں نیکٹا کی ہیلپ لائن پر پانچ لاکھ 18 ہزار 333 شکایات موصول ہوئیں ، پاکستان میں 71 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 37 ملین ہے،پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم پورے ٹویٹر کو بلاک کر سکتے ہیں، انفرادی پیج کو بلاک نہیں کر سکتے، ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس پیج کو بلاک کر دیں، ٹویٹر 35 فیصد ہمیں سنتا ہے،گرے سم کی وجہ سے سائبر کرائم ہوتے ہیں، اس کو بہت حد تک کم کر چکے ہیں،گرے سم جاری ہونا بہت ہی کم ہو گئی ہے،ہم فرنچائزز میں کیمرے بھی لگوا رہے ہیں،اجلاس کے دوران رکن کمیٹی ریاض حسین پیرزادہ نیکہا کہ ہمیں تھریٹ کیوں آتے ہیں؟وزارت داخلہ ہمارے گھروں کی محافظ ہے،تھریٹ صرف عوام کے نمائندوں کو ہے؟ مجھے ابھی تھریٹ آیا ہے، مجھے کسی کا ڈر نہیں، کوئی ہمیں تھریٹ کررہا ہے کوئی گالی دے رہا ہے۔کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ دیگروزارتوں ،محکموں اور صوبوں کے ساتھ مشاورت کرکے مسئلے کے حل کے لیئے تجاویز کا ڈرافٹ لے کر آئیں۔

شیئر کریں

Top