آئندہ مالی سال میں مزید28 اضلاع کو بلا سود قرضہ پروگرام میں شامل کیا جائے گا، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

Dr-Sania-Nishtar-Pc-Isb-06-07.jpg

کریانہ سٹوروں کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے محصولات میں اضافہ اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی میں مدد ملے گی ٹارگٹ سبسڈیز دینے میں بھی معاونت ملے گی، احساس تحفظ پروگرام کو وسعت دی جائے گی، موجودہ بجٹ میں صنعت، کاروبار اور عوام کوریلیف فراہم کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں،معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا یوان بالامیں آئندہ مالی سال 2021-22کے بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشترنے کہا ہے کہ کریانہ سٹوروں کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے نہ صرف محصولات میں اضافہ اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی بلکہ ٹارگٹ سبسڈیز دینے میں بھی معاونت ملے گی، آئندہ مالی سال میں مزید28 اضلاع کو بلا سود قرضہ پروگرام میں شامل کیا جائے گا، احساس تحفظپروگرام کو وسعت دی جائے گی، موجودہ بجٹ میں صنعت، کاروبار اور عوام کوریلیف فراہم کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ جمعہ کو ایوان بالامیں آئندہ مالی سال 2021-22کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ بجٹ میں حکومتی ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے، معاشی سرگرمیوں کا فروغ اور عوام کی مشکلات کا ازالہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، مزدور کی کم سیکم اجرت 20 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، 260 ارب روپے احساس پروگرام کے لئیمختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز پر ٹیکس چھوٹ،سیلز ٹیکس پر چھوٹ، کیپیٹل گین ٹیکس میں کمی، ٹیلی کام ٹیکس میں کمی اورکسٹم ڈیوٹی کی مد میں صنعتوں کے خام پر چھوٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہالیکٹریکل وہیکل اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا گیا ہے، بینکنگٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021میںاحساس پروگرام کے لئے 209 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جن میں سے 97 فیصدخرچ ہوئے ہیں، رواں سال یہ رقم بڑھا کر 260 ارب روپے کر دی گئی ہے، گزشتہمالی سال کے دوران ملک گیر سروے کا کام 93 فیصد مکمل ہو چکا ہے، مستحقین کو بینکنگ نظام کے ذریعے رقوم کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران احساس کفالت پروگرام میں 70 لاکھ لوگوں کو شامل کیاگیا، بچوں کے لئے تعلیمی وظائف کا پروگرام 151 اضلاع تک بڑھایا گیا،وظیفہ کی رقم میں اضافہ کیا گیا، کورونا وباکے دوران ایک کروڑ 50 لاکھافراد کو شفاف طریقے سے 12 ہزار روپے امداد فراہم کی گئی، ایک لاکھ طالبعلموں کو سکالرشپس دی گئیں، ڈیلیوری یونٹ کا قیام، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی اصلاحات کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کواحساس ایمرجنسی کیش کی مد میں 12 ہزار روپے امداد ملے گی، یہ مرحلہ دسمبر میں مکمل کر لیا جائے گا، جنوری سے جولائی 2022کے دوران احساس کفالتپروگرام میں مزید 30 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا، وظیفہ کی رقم 12ہزار روپے سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی جائے گی، بینک اکانٹس کے لئے مستحقین کو رقوم فراہم کی جائیں گی، احساس نشو و نما پروگرام کے تحت 50اضلاع میں 150 مراکز قائم کئے جائیں گے، ملک بھر میں احساس ونڈو مراکزقائم کئے جائیں گے، بلا سود قرضہ پروگرام میں 28 اضلاع کو شامل کیا جائیگا، احساس تحفظ پروگرام کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا، احساس پروگرام کیتحت مستحقین کو یوٹیلٹی سٹورز پر خریداری پر رعایت ملے گی، ریڑھی بانوںکے لئے نظام میں بہتری لائی جائے گی۔

شیئر کریں

Top