پارلیمانی فورم نے مذاکراتی کمیٹی کو ٹی ٹی پی سے بات چیت جاری رکھنے کا مینڈیٹ دیدیا

10.jpg

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے سول اور عسکری نمائندوں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی کو کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کا مینڈیٹ دے دیا۔

ذرائعکے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مسلح افواج اور خفیہ اداروں کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، وفاقی وزراء سمیت اعلی ترین سول، سیاسی، پارلیمانی اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

دیگر شرکا میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری، وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر، وزیراعظم کے معاون خصوصی اویس نورانی سمیت، ارکان اسمبلی شامل ہیں۔
اجلاس میں آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، محمود خان اچکزئی، سردار عبدالمالک، خالد مقبول صدیقی، کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے اراکین اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک کی مجموعی قومی سلامتی کی صورتحال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے ملک کی موجودہ صورتحال سے کمیٹی کو آگاہ کیا جب کہ عسکری قیادت کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کو ملکی صورتحال اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا، شرکا کو بریفنگ ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر پشاور نے دی جب کہ آرمی چیف نے ارکان کے تمام سوالات کے جواب دیئے۔

عسکری قیادت نے بریفنگ میں اب تک بات چیت کے ہونے والے ادوار سے متعلق بتایا اور کہا کہ افغانستان کی حکومت کی سہولت کاری کے ساتھ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل ہے، کمیٹی آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر مذاکرات کر رہی ہے، حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لیے فراہم کردہ رہنمائی اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

اجلاس میں پارلیمانی فورم نے مذاکراتی کمیٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات جاری رکھنے کا مینڈیٹ دے دیا، طے کیا گیا کہ ایک پارلیمانی اوورسائٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں صرف پارلیمانی ممبران شامل ہوں گے، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔

عسکری قیادت نے ملک کو داخلی و خارجہ سطح پر لاحق خطرات سے آگاہ کیا، اجلاس کو پاک افغان سرحد پر انتظامی امور کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

اجلاس کے شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اجلاس میں غیرمتعلقہ افراد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس ہونے کے باعث میڈیا کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

پنجاب اور بلوچستان میں مزید موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

9.jpg

اسلام آباد: پنجاب اور بلوچستان میں پانچ سے سات جولائی کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کا امکان ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ موسلادھار بارش سے راولپنڈی، اسلام آباد، کشمیر، خضدار، گوادر اور آواران کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
کشمیر، گلیات، مری، چلاس، دیامر، گلگت، ہنزہ، استور اور اسکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔
مسافر اور سیاح اس دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
مون سون ہوائیں آئندہ 24 گھنٹوں میں شدت سے بیشتر علاقوں میں داخل ہوں گی جبکہ رواں ہفتے کے آخر سے مون سون ہواؤں میں دوبارہ شدت کا امکان ہے۔
اسی حوالے سے پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے، بارشوں کے باعث راولپنڈی کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے، مسافر اور سیاح اس دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، پی ڈی ایم اے نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے

آئی ایم ایف سے معاملات ایک سے ڈیڑھ ہفتے میں طے ہوجائیں گے، وزیر پیٹرولیم

8.jpg

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و توانائی مصدق ملک نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈز ( آئی ایم ایف) سے معاملات ایک سے ڈیڑھ ہفتے میں طے ہوجائیں گے۔
قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اللہ بہتر کرے گا، ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے، ہم آگے بڑھ رہے ہیں اقتصادی طور پر تھوڑی سختیاں ہیں، اللہ بہتری کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بنیادی معاملات طے ہو گئے ہیں، آئی ایم ایف سے پیپر ورک چل رہا ہے، ایک سے ڈیڑھ ہفتے میں معاملات طے ہو جائیں گے پھر رقم کی منتقلی کا مرحلہ شروع ہوگا۔

طالبان زیرِزمین چھپائی گئی ملا عمر کی گاڑی منظرعام پر لے آئے

3-1.jpg

کابل: افغانستان میں چھپائی گئی طالبان کے بانی ملا عمر کے زیر استعمال رہنے والی گاڑی کو طالبان حکومت منظر عام پر لے آئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر طالبان حکومت سے وابستہ ایک عہدیدار محمد جلال نے اپنی ٹوئٹ میں زمین کھود کر ایک گاڑی کو نکالنے کی تصاویر شیئر کی ہیں۔
جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے پلاسٹک شیٹ سے بھی ڈھکا گیا تھا۔ ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گاڑی طالبان کے بانی ملا عمر کے زیر استعمال رہی ہے۔
محمد جلال نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ مرحوم امیر ملا عمر امریکی حملے کی شروعات کے دوران قندہار سے زابل کے سفر کے لیے یہی ویگو گاڑی استعمال کیا کرتے تھے۔

پنجاب حکومت کا 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں سے بل نہ لینے کا اعلان

2344537-hamzashahbazpanjab-1656935331-666-640x480-1.jpg

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صوبے میں گزشتہ چھ ماہ تک 100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کے بل معاف کرنے کا اعلان کردیا۔

لاہور میں ن لیگ کے پارٹی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ آج بجلی کا بل قیامت ڈھاتا ہے، پنجاب بھر میں 100 یونٹ استعمال کرنے والے 44 لاکھ خاندان ہیں یعنی صوبے کے ساڑھے 5 کروڑ عوام ماہانہ 100 یونٹ سے کم استعمال کرتے ہیں، حکومت پچھلے 6 ماہ میں 100 یونٹ استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی فراہم کرے گی، آج سے پنجاب حکومت 100 یونٹ استعمال کرنے والوں کا خرچہ اٹھائے گی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ  پنجاب حکومت مستحق افراد کو مفت میں سولر پینل بھی فراہم کرے گی تاکہ انہیں ہمیشہ کے لیے بجلی مفت مل سکے، حکومت عوام کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر کام کررہی ہے، ہم اسپتالوں میں ادویات بھی مفت فراہم کررہے ہیں۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ آج سیاست نہیں ریاست بچانے کا وقت ہے، 74 سال بعد بھی ملک دوراہے پر کھڑا ہے، نام اور عہدے انسان بھول جاتا ہے کام یاد رہ جاتے ہیں، ہمیں سسکتی معیشت کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں غربت، مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، عمران خان کی طرح جھوٹی تسلیاں نہیں دوں گا، میں کبھی عمران نیازی کی طرح 90 دنوں میں سب کچھ کرنے کا دعویٰ نہیں کروں گا جب تک میں پنجاب میں وزیراعلی ہوں تب تک میں سچ کہوں گا، گزشتہ حکومت نے پنجاب کے ساتھ کھیلا،  گزشتہ تین ماہ پنجاب میں آئینی بحران رہا، چور، ڈاکو، کرپٹ کرپٹ کے نعرے سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں لیکن میں کسی کو چور اور ڈاکو کہہ کر نہیں پکاروں گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم نے گندم  پر 200 ارب کی سبسڈی دی، ہم نے 10 کلو کے آٹے پر 160 روپے ریلیف دیا اور عوام کو مزید سہولیات بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام بتائے کہ 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو کیا اس وقت ترقی کی شرح 5 اعشاریہ 8 نہیں تھی؟ کیا تب لوڈ شیڈنگ صفر نہیں ہو گئی تھی؟ ان 4 برس میں ایسا کیا ہوا کہ معیشت منفی شرح میں چلی گئی اور لوڈ شیڈنگ دوبارہ ہو رہی ہے

رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات میں عمران خان کے ساتھی اثر انداز ہوئے، نئی رپورٹ

2344500-ringroadrawalpindi-1656930191-230-640x480-1.jpg

 اسلام آباد: رنگ روڈ کی انکوائری کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق سابقہ تحقیقات میں عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا اثر رسوخ رہا۔

ایکسپریس نیوز کو حاصل ہونے والی راولپنڈی رنگ روڈ کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سابق کمشنر سید گلزار حسین شاہ کی انکوائری رپورٹ بدنیتی پر مبنی تھی۔ نئی تحقیقات گریڈ 22 کے آفیسر ڈی جی سول سروس اکیڈمی عمر رسول نے کی، جنہیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے گریڈ 22 میں ترقی دی تھی۔

نئی تیار کی گئی 67 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ نئی تحقیقات میں تمام شواہد دیکھے گئے اور 30 گواہوں کو سنا گیا اور تحقیقات کے دوران رنگ روڈ منصوبے میں کرپشن کے شواہد نہیں ملے جب کہ سابقہ تحقیقات میں عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا اثر رسوخ رہا۔

 

نئی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سابق وزیراعلیٰ نے رنگ روڈ منصوبے کی الائنمنٹ ردوبدل کی منظوری دی تھی،  جس سے حکومت کو 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے گلزار حسین شاہ کی تحقیقات پر ایک اور انکوائری کرائی تھی۔ عمران خان نے گریڈ 22 کے آفیسر محمد علی شہزادہ کو تحقیقات سونپی تھی۔ محمد علی شہزادہ کی تحقیقات کو اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف نے درست قرار نہیں دیا تھا۔ اس وقت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف نے ڈی نووو تحقیقات کی تجویز دی تھی۔

نئی رپورٹ نے مطابق نئی حکومت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 20 اپریل 2022ء کو ڈی نووو تحقیقات کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ سید گلزار حسین شاہ کی تحقیقات میں سابق کمشنر محمد محمود کو سنے بغیر کارروائی عمل میں لائی گی۔ رپورٹ کے مطابق سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود کے خلاف کوئی گواہ بھی نہیں لایا گیا۔ سابق کمشنر راولپنڈی سید گلزار حسین شاہ نے خود سے ٹی او آر بنائے اور خود ہی تحقیقات کی۔

عمران خان نے الیکشن ایکٹ ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کردیں

2344423-imrankhan-1656917428-469-640x480-1.jpg

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے الیکشن ایکٹ ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست دائر کردی۔

ایڈووکیٹ عزیر کرامت بھنڈاری کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق،الیکشن کمیشن اور نادرا کو فریق بنایا گیا ہے، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے الیکشن  ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دے کر الیکشن کمیشن اور دیگر حکام کو اوورسیز پاکستانیوں کو دی گئی   ووٹ  کی سہولت کی فراہمی کا حکم دے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن ودیگر حکام کو حکم جائے کہ عام انتخاب  میں اوورسیز پاکستانی فراہم کی گئی سہولت کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں۔

سابق وزیراعظم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نادرا کو فنڈز فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ علاوہ ازیں نادرا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا میکنزم بنائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کی الیکشن لاز میں ترامیم اوور سیز پاکستانیوں کے حق کی خلاف ورزی ہے جب کہ آئین اوور سیز پاکستانیوں کا ووٹ کا حق دیتا ہے۔آئینی حق کو استعمال کرنے کی سہولت تارکین وطن کو فراہم نہیں جارہی۔ سپریم کورٹ اپنے کئی فیصلوں میں سہولت فراہمی کا حکم دے چکی ہے۔

دریں اثنا نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے معاملے میں بھی عمران خان نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل دائر کردی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات بلاجواز ہیں، رجسٹرار آفس کے پاس دائرہ اختیار کے فیصلے کا اختیار نہیں ہے۔

واضح  رہے کہ رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ ترامیم سے عوام کے کون سے حقوق متاثر ہوئے ، درخواست گزار نے مناسب فورم سے رجوع نہیں کیا اور درخواست کے ہمراہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں لگایا گیا۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض میں مزید کہا کہ کن وجوہات کی بنا پر عدالت اپنا اختیار استعمال کرے۔

بجلی بحران؛ دس عدد ایل این جی کارگوز منگوانے کیلیے ٹینڈر جاری

2344486-lng-1656928968-972-640x480-1.jpg

 اسلام آباد: بجلی کے بحران میں کمی کے لیے حکومت نے دس عدد ایل این جی کارگوز کی درآمد کے لیے کمپنیوں سے بولیاں طلب کرلیں۔

حکومت کی بجلی بحران پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، حکومت نے دس عدد ایل این جی کارگوز کی درآمد کے لیے ٹینڈر جاری کردیے۔

ٹینڈر میں پاکستان ایل این جی نے کارگوز کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کرلی ہیں، ٹینڈر جولائی، اگست اور ستمبر کے کارگوز کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

ٹینڈر کے مطابق جولائی کے لیے دو، اگست کے لیے پانچ  کارگوز کے لیے بولیاں طلب کی گئی ہیں جب کہ ستمبر کے لیے تین کارگوز منگوانے جارہے ہیں۔

تمام کارگوز کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ سات جولائی ہے۔

پی ٹی آئی کا بشریٰ بی بی کی فون ٹیپنگ کے فرانزک ٹیسٹ کا مطالبہ

2344451-fawadchsherenmazari-1656924555-193-640x480-1.jpg

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فون ٹیپنگ کے فرانزک ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کردیا۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں فواد چوہدری اورشیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو کی۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فون ٹیپنگ فرانزک کے  بعد پتا چلے گا کہ اصلی ہے یا نقلی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فون ٹیپنگ غیر قانونی ہے۔اس ساری گفتگو کو کٹ پیسٹ کیا گیا ہے۔

شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ اس میں بہرحال کوئی سیاسی بات نہیں ہے۔ ماضی میں ایک حکومت بھی اسی وجہ سے ہٹی۔ سپریم کورٹ عمران خان کے گھر فون ٹیپ کرنے کا نوٹس لے۔یہ سب کچھ سازش چھپانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔یہ وہ لوگ کررہے ہیں جو حکومت کو لے کر آئے۔ مریم نواز کو کس حیثیت سے سرکاری ڈاکومنٹس کیوں دکھائے جارہے ہیں۔نیوٹرلز اور کرائم منسٹر سے پوچھنا چاہتے ہیں یہ سب کیوں ہورہا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مسلسل فون ٹیپ کرکے لیک کئے جارہے ہیں۔ فرح بی بی پربھی الزامات لگائے جارہے ہیں۔ آپ فرح بی بی پر مقدمہ کریں تاکہ وہ جواب دیں۔ جب مقدمہ ہی درج نہیں ہوا تو وارنٹ کیسے جاری ہو سکتے ہیں۔جہاں فرح بی بی کو ایک پلاٹ ملا وہیں ایاز صادق کو دو پلاٹ

ملے۔کیا ایاز صادق بھی فرح بی بی کے پارٹنر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوڈ شیڈنگ برھتی جارہی ہے کیونکہ ان کے پاس فیول منگوانے کے پیسے نہیں۔کہا جارہا ہے عید پر بھی لوڈشیڈنگ ہوگی۔ انہوں نے فوری آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لیں لیکن پھر بھی پیکیج نہیں مل رہا۔ انہوں نے نیب ترامیم کرکے گیارہ سو ارب کا این آر او 2 لیا۔پانچ ہزار کروڑ اومنی گروپ میں آصف زرداری کو این آر او ٹو دیا گیا۔

راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس کھائی میں جاگری، 20 افراد جاں بحق

2343982-balochistanaccident-1656845405-319-640x480-1.jpg

راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس تیز رفتار کے باعث حادثے کا شکار ہوگئی نتیجے میں 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس بارش کی پھسلن اور اوور اسپیڈنگ کے باعث ضلع شیرانی کے حدود دہانہ سر دانہ کے مقام پر کھائی میں جاگری، جس کے باعث 19 مسافر موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہیں بعدازاں ایک زخمی اسپتال میں دم توڑ گیا۔
ریسکیو اہل کاروں کا کہنا ہے کہ لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

 

 

Top