وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی

2327183-abdulquddosebazenjo-1653561756-490-640x480-1.jpg

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہوگئی۔
بلوچستان اسمبلی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے اکثریت حاصل نہ کرسکی، تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے مطلوبہ اراکین کی تعداد 13ہونی تھی لیکن جام کمال گروپ اسمبلی میں 13 ممبران کی تعداد پوری نہیں کرسکا۔
اسمبلی میں 11اراکین نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی، آئین کے تحت 20 فیصد ممبران یعنی 13 اراکین کی اجازت سے اسمبلی میں قرار داد پیش کی جا سکتی ہے۔
ممبران پورا نہ ہونے پر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوئی، اب آئندہ چھ مہینے تک وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف کسی قسم کا عدم اعتماد نہیں ہو سکتا ہے ۔صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل نے کی اور عدم اعتماد کی تحریک ظہور بلیدی نے پیش کی تھی۔ اسمبلی کا اجلاس پانچ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج

2327101-aimrankhan-1653581807-487-640x480-1.jpg

اسلام آباد: اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پارٹی قائدین اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف تین مقدمات درج کرلیے گئے۔
ذرائعکے مطابق اسلام آباد کے تھانہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان سمیت سیکڑوں کارکنوں کیخلاف سرکاری املاک کونقصان پہنچانے کے تین مقدمات درج کیے گئے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی ایما پر پی ٹی آئی کارکنوں نے درختوں کو آگ لگائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے لانگ مارچ کے دوران سرکاری بس پر پتھراؤکرکے نقصان پہنچایا جبکہ بلیو ایریا اور ڈی چوک پر پولیس پر دھاوا بول کر اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراو سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ مقدمے کی درخواست میں لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکن کی گاڑی سے ایس ایم جی کی گن بھی برآمد ہوئی۔
قبل ازیں لاہور میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات درج کرلیے گئے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اہلکاروں پر تشدد اور انہیں اغوا کرنے سمیت اینٹی رائٹ سامان چھیننے پر سنگین دفعات تحت مقدمات درج کیے۔ مقدمات میں نامزد کیے گئے پی ٹی آئی رہنماؤں میں جمشید اقبال چیمہ، مسرت چیمہ، حسان نیازی اور زبیر نیازی سمیت سیکڑوں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت کے خلاف مقدمات گلبرگ، بھاٹی گیٹ، شاہدرہ، اسلام پورہ میں درج کیے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سابقہ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور انکے بھائی سمیت 200 نامعلوم افراد کے خلاف کار سرکار مداخلت اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر تھانہ منگلا کینٹ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
گجرات میں آزادی مارچ کی قیادر کرنے پر ایم پی اے و ضلعی صدر چوہدری سلیم سرور جوڑا۔ایم پی اے چوہدری ارشد سمیت 200 افراد کے خلاف رکاوٹیں ہٹانے اور پتھراؤ پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
راولپنڈی پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ کے عہدیداران و کارکنوں پر تین مقدمات درج ہوئے، مقدمات تھانہ نیوٹاون، تھانہ صادق آباد اور تھانہ وارث خان میں درج کیے گئے۔
گزشتہ روز لال حویلی کے باہر عوامی مسلم لیگ کے 100 اراکین جمع ہوئے، جنہیں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
دوسری جانب کراچی میں عدالت نے دفعہ 188 کے تحت درج مقدمات میں پی ٹی آئی کے گرفتار 20 کارکنان کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔
پی ٹی آئی کراچی کی قیادت کو بھی ہنگامہ آرائی، املاک کو نقصان پہنچانے، جان سے مارنے کی دھمکی، انسداد دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار مداخلت کے طور مقدمات درج کیے گئے تھے۔
کراچی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں علی زیدی، بلال غفار، خرم شیر زمان، ارسلان تاج، جمال صدیقی، علی عزیز جی جی، فروس شمیم نقوی، محسن علی بٹ، اشرف علی سمیت 9 رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ مقدمے میں 600 سے 700 نامعلوم افراد کا بھی ذکر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی، نمائش چورنگی اورشاہراہ قائد پرجلاؤ گھیراؤ کے پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت 3 مقدمات درج کرلیے، 28 کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا، مقدمات میں پی ٹی آئی کے 9 رہنما نامزد کر دیےگئے تاہم کسی رہنما کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

الیکشن کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی،عمران خان سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں،وزیراعظم

2327181-sb-1653562417-184-640x480-1.png

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور کمیٹی بناسکتا ہوں لیکن ڈکٹیشن نہیں چلے گی اور الیکشن کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔
شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم کا بل پاس کرکے شفاف انتخابات کی بنیاد رکھ دی، کیا کسی جتھے یا جماعت کو ڈنڈے کے زور پر یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ آئین سے بغاوت کرے، کیا اسے ملک میں بدامنی پھیلانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟، کیاکسی مسلح جتھےکو بغاوت کاموقع دیا جا سکتاہے؟ اتحادیوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیایہ ایوان اس طرح کاموں کی اجازت دےسکتی ہے، تباہی کا رستہ اختیار کرنا ہے یا ملک کو بنانا ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ 22 اپریل کو میں نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا، اس روز ہمارے سامنے دو اہداف تھے، ایک شفاف الیکشن ہوں، دوسرا ڈوبتی معیشت کو محنت کرکے کنارے لگائیں، سابق حکومت نےمعیشت کابیڑہ غرق کردیا، ان حالات میں جب ہم محنت کر رہے ہیں اور معیشت درست کررہےہیں، تو ہمیں جلاؤ گھیراؤ کا پیغام دیاگیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کیا ان حالات میں فتنہ فساد اور دھرنوں کی کوئی گنجائش ہے، جب ڈی چوک پر حملے ہو رہے تھے اس وقت سپریم کورٹ کی دیواروں میلے کپڑے رکھے گئے تھے، قبریں کھودی گئیں، اس وقت رات کے اندھیرے میں جو کچھ کیا گیا اس کے گواہ ہم سب ہیں، ہم نے ماضی کو نہیں دہرانا بلکہ ملک کو معاشی طور پر آگے لےجاناہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ عمران نیازی کے حق میں فیصلہ دے تو یہ خوش اور نہ دے تو تنقید کرتے ہیں، عمران نیازی نےعدلیہ اور اداروں کوکھلےعام بدنام کیا،گالیاں دیں، اس شخص نے کہا تھا کہ فلاں چیف جسٹس میرا کیس سنیں تو تیار ہوں، جب انہوں نے سنا اور فیصلہ کیا تو اس نے دشنام طرازی شروع کر دی، پچھلے4سال میں گالی گلوچ کےعلاوہ کچھ نہیں ہوا۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ اس ایوان نے آصف زرداری، بلاول بھٹو، اسعد محمود، مولانا فضل الرحمن، خالد مقبول ، اختر مینگل نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اس فتنے کا علاج کرنا ہے یا ملک کو تباہ ہوتے دیکھنا ہے، ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ تباہی کی طرف جانا ہے یا ترقی کی طرف، میرا وطن اور عوام کب تک اس سنگین مذاق کو بھگتتے رہیں گے، کے پی پولیس اور وزیر اعلیٰ مسلح جتھوں کے ساتھ آئے یہ کہیں دنیا میں نہیں ہوتا، ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ مسلح جتھوں کے ساتھ وفاق پر حملہ آور ہوا۔

انہوں نے زور دیا کہ ہم نے الیکشن کب کرانے ہیں اس کا فیصلہ ایوان اور مخلوط حکومت کرے گی، ایک سال دو ماہ ابھی حکومت کی مدت رہتی ہے، عمران خان سے بات چیت کے لئے دروازے کھلے ہیں اور کمیٹی بناسکتا ہوں لیکن کسی بھول میں نہ رہنا ، تم یہ نہ سمجھو کہ ہمیں ڈکٹیشن دے لو گے، یہ ڈکٹیشن اپنے گھر میں دو، ہم مرعوب نہیں ہوں گے ۔

شہباز شریف نے اس موقع پر یہ معنی خیز شعر بھی پڑھا۔ ظلم بچے جن رہا ہے عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے معیشت کو 1 ارب روپے کا نقصان ہوا، معاشی ماہرین

2327290-pti-1653576243-272-640x480-1.jpg

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی لانگ مارث کے باعث ملکی معیشت کو مجموعی طور پر ایک ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ’حقیقی آزادی‘ کے عنوان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا جسے روکنے کےلیے سیکیورٹی اداروں نے سرٹور کوششیں کی اور مختلف شہروں میں دن بھر پی ٹی آئی کارکنوں اور سیکیورٹی اہلکاروں میں شدید جھڑپیں جاری رہی۔
لانگ مارچ کے باعث ہونے سے والے نقصان سے متعلق ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو مجموعی طور پر ایک ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچا ہے جب کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 202.50 روپے اور اوپن مارکیٹ میں203 روپے تک پہنچ گیا ہے البتہ لانگ مارچ و دھرنا ختم ہونیکے بعد شروع ہونیوالے کاروباری دن میں ملکی سٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی اور انڈیکس میں529 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو دیولیہ کرکے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کیلئے جال بچھایا جارہا ہے اگر دھرنا طوالت اختیار کرتا تو ملکی معیشت مکمل طور پر جام ہونے کا خطرہ تھا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ریاست مدینہ کا بیانیہ دیا موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ فتح مکہ کی مثال سامنے رکھتے ہوئے سب مخالفین کو عام معافی کا اعلان کرکے سب کو ساتھ بٹھائیں اور مل کر ملک کوآگے لے کر چلیں اور دشمن قوتوں کا ملک کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائے۔
اس حوالے سے فاریکس ایسوسی ایشن کے رہنما ملک بوستان نے ایکسپریس سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا دھرنا ہوجاتا ہے ملک نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت ملک سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے اس لئے سب جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے چھ دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے اور چھ دن بعد دوبارہ دھرنے و لانگ مارچ کی دھمکی دی ہے ہماری درخواست ہے کہ احتجاجی سیاست کی بجائے پارلیمنٹ میں جاکر مسئلہ حل کرلیں تو زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ ملکی معیشت مزید کسی بحران اور دھرنوں کی متحمل نہیں ہے ابھی آئی ایم ایف نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کئے بغیر پروگرام ٹریک پر لانے اور اگلی قسط جاری کرنے سے انکار کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت پر دبا بڑھتا جارہا ہے۔
ملک بوستان کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے اور حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے اور عوام کو اعتماد میں لے کر سخت فیصلے کرے تاکہ ملکی معیشت کو بحران سے نکالا جاسکے کیوں کہ معیشت ہے تو سیاست ہے اگر معیشت نہیں چلے گی تو سیاست بھی نہیں چلے گی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی حکومتی درخواست نمٹادی

2327026-supremecourt-1653550850-505-640x480-1.jpg

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست نمٹادی۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے درخواست میں کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس اپنی تقاریر میں کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا، حالانکہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو سرینگر ہائے وے پہنچنے کا کہا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے سرکاری اورنجی املاک کو نقصان پہنچایا اورفائربریگیڈ کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ وفاقی حکومت نے عدالت سے استدعا کی کہ انصاف کے تقاضوں کومد نظررکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرامن احتجاج کی یقین دہانی پر پی ٹی آئی کو اجازت دی گئی تھی ، لیکن عدالتی حکم کے بعد عمران خان نے پیغام جاری کرکے کارکنوں کو ڈی چوک جانے کا کہا۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ عدالت نے صرف آئینی حقو ق کی خلاف ورزی پر حکم جاری کیاتھا ، ممکن ہے عمران خان کے پاس پیغام درست نہ پہنچا ہو، اس بیان کے بعد کیاہوا یہ بتائیں ، علم میں آیا کہ شیلنگ ہوئی اور لوگ زخمی بھی ہوئے، عدالتی حکم میں فریقین کے درمیان توازن کی کوشش کی گئی تھی ، پی ٹی آئی ایک ماہ میں 33جلسے کرچکی ہے ، تمام جلسے پرامن تھے ، توقع ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی ذمہ داریوں کو بھی احساس ہوگا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے ہی پی ٹی آئی کے جلسوں کو تحفظ فراہم کیاتھا ، لیکن ان کے کارکنوں کے حملوں میں 31پولیس اہلکار زخمی ہوئے، فائر بریگیڈاور بکتر گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، حکومت کو کل رات فوج طلب کرنی پڑی تھی، کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی کوتباہ کیاگیا، عمران خان نے دھرنا دینے کے بجائے چھ دن کی ڈیڈلائن دی ، عمران خان نے کارکنوں کوواپس جانے کانہیں کہا ، ان کے خلاف کارروائی نہ ہوئی توسب عدالتی یقین دہانی پر عمل نہیں کریں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ کل ہوا وہ آج ختم ہوچکاہے، عدالت انتظامیہ کے اختیارات استعمال نہیں کرتی، عوام کے تحفظ کے لئے عدالت ہروقت دستیاب ہے، عوام کے تحفظ کے لئے ہی چھاپے مارنے سے روکاتھا، عدالت چھاپے مارنے کے خلاف اپنا حکم برقرار رکھے گی ، کل سٹرک پر صرف کارکن تھے لیڈر نہیں ، آگ آنسو گیس سے بچنے کے لئے لگائی گئی تھی ، کارکنوں کو قیادت ہی روک سکتی ہے جو موجودنہیں تھی۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف کارروائی کی حکومتی درخواست نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت کل والے عدالتی حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کام خود کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فی الحال یہ کیس نمٹارہے ہیں کہ راستے کھل چکے ہیں، عدالت نے ضروری سمجھا تو کیس بحال کردے گی ، سیاسی درجہ حرارت زیادہ ہے مداخلت کرنادرست نہیں ہوگا۔

لاہور میں اہلکار کی ہلاکت: کس بات کا شہید؟ کیا ڈاکو پکڑنے گئے تھے، پرویز الٰہی کا جواب

download-2.jpg

پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے رہنما و اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب پولیس کے اہلکار کی شہادت پر کہا ہے کہ کس بات کا شہید؟ کیا ڈاکو پکڑنے گئے تھے؟

میڈیا سے گفتگو میں پرویز الٰہی کا کہنا تھاکہ یہ ضروری ہے کہ قومی سطح پر ملک میں الیکشن ہو، ہم عمران خان کے ساتھ آن بورڈ ہیں، ان کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے بہت سوچ سمجھ کر یہ پروگرام بنایا ہے۔

اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ کل رات ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا؟ اس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ کس بات کا شہید؟ کیا ڈاکو پکڑنے گئے تھے؟ کسی کوکیاپتہ اس کےگھرآنے والاچور ہے یاڈاکو،کون ہے ؟

ان کا کہنا تھاکہ گھرمیں بہن، بیٹی،بہو اوربیوی ہو تو کوئی دروازہ توڑکرآجائےتووہ کیاسمجھےگا؟ وہ یہی سمجھےگاکہ ڈاکوآگئے، ڈاکوؤں کے ساتھ جو سلوک ہوتاہےوہ ہوااس کےساتھ۔

خیال رہے کہ گزشتہ شب لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے چھاپے کے دوران پی ٹی آئی کارکن کی فائرنگ سے کانسٹیبل کمال احمد شہید ہوگئے تھے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معطل

2326388-petrol-1653408331-633-640x480-1.jpg

اسلام آباد / راولپنڈی: لانگ مارچ کو روکنے کیلئے راستے سیل کرنے سے جڑواں شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معطل ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کیلئے لاہور سے اسلام آباد جانے والے تمام راستے سیل کردئیے گئے ہیں جس کو پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں رکاوٹ کا باعث بن گیا ہے۔
اس حوالے سے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جڑواں شہروں میں راستے بند ہونے سے سپلائی نہیں کرسکتے تاہم راولپنڈی اسلام آباد کے تمام پٹرول پمپس پر سٹاک کے مطابق پٹرول ڈیزل موجود ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں پیٹرول پمپس پر فی الحال اسٹاک ختم ہونے کی صورتحال نہیں ہے۔

پنجاب سے اسلام آباد جانیوالے راستے بند، صوبے کا پختونخوا سے رابطہ منقطع

147-copy.jpg

لاہور: حکومت نے پنجاب سے اسلام آباد جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کا بتانا ہےکہ صوبے کے تمام اضلاع کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے ہیں جس کے تحت اسلام آباد جانے والے تمام راستے بند ہیں۔
ذرائع کےمطابق صوبے کے تمام اضلاع سے اسلام آباد جانے والی ٹرانسپورٹ بند کردی گئی ہے، کوئی بھی شخص لانگ مارچ میں ضلع سے باہرنہیں نکل سکےگا جب کہ اس سلسلے میں تمام ٹرانسپورٹرز کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی ہےکہ کوئی بھی اپنی گاڑی لانگ مارچ کے شرکا کو نہیں دے گا۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے فیض آباد کے علاقے میں کنٹینر پہنچادیے گئے ہیں جب کہ جی ٹی روڈ پر دریائے جہلم کے پل پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں جس سے جی ٹی روڈ سے اسلام آباد جانے والا راستہ بندہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ کو اٹک خورد کے مقام پر بلاک کردیا گیا جس سے خیبرپختونخوا کا پنجاب سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔
اس کے علااوہ موٹروے ایم 1 کو اسلام آباد جاتے ہوئے صوابی کے مقام پر بند کیا گیا ہے جب کہ موٹروے لاہور سے راوی ٹول پلازہ پر بھی کنٹینرز رکھ کر بند کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال پیش نظر لاہور میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہےکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے جس کےبعد پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

پی ٹی آئی لانگ مارچ: جڑواں شہروں میں تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی

2326383-untitledcopy-1653409253-529-640x480-1.jpg

اسلام آباد: وفاقی تعلیمی بورڈ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر امتحانات ملتوی کرنے جبکہ اسلام آباد کی بیشتر جامعات نے بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملکی سیاسی صورتحال اور تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی تعلیمی بورڈ نے 25 اور 26 مئی کو ہونے والے امتحانات ملتوی کر نے کا اعلان کردیا۔
تعلیمی بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’امتحانات ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کیے گئے جن کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا‘۔
علاوہ ازیں اسلام آباد کی بیشتر جامعات نے بھی سیاسی صورت حال کے پیش نظر یونیورسٹیز کو بند رکھنے کا اعلان کیا جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بھی امتحانات ملتوی کر دیئے ہیں۔
علاوہ ازیں قائد اعظم یونیورسٹی، اسلامک انٹرنیشنل اورنیوٹیک یونیورسٹی کو بھی کل بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
او اور اے لیول کے امتحانات ملتوی
دوسری جانب برٹش کونسل نے بھی راولپنڈی اور اسلام آباد میں او اور اے لیول کے کل ہونے والے پرچے منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ منسوخ ہونے والے پرچوں میں کیمبرج آئی جی سی ایس ای بزنس سٹڈیز، کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول لاء، سائیکالوجی، کیمبرج آئی جی سی ایس ای ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی، کیمبرج انٹرنیشنل اے لیول میتھ اور او لیول بزنس سٹڈیز کے پرچے شامل ہیں۔
تاہم برٹش کونسل نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں کل کی تاریخ میں ہونے والا امتحان معمول کے مطابق ہوگا۔ چھبیس مئی اور بعد کے امتحانی پرچے راولپنڈی اور اسلام آباد میں شیڈول کے مطابق ہونگے۔ امن و امان کی صورتحال میں طلباء اور عملے کے تحفظ کے لئے امتحان منسوخ کیا گیا ہے۔
اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
دوسری جانب راولپنڈی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے الرٹ جاری کردیا گیا، وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمد عمر نے بتایا کہ تین اسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز اپ ٹو مارک کرنے اور ادویات اور خون کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہیں جبکہ بینظیر بھٹو جنرل اسپتال، ہولی فیملی اسپتال اور سول اسپتال کے عملے اور ڈاکٹرز کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

راستوں کی بندش کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی سپریم کورٹ میں درخواست سماعت کیلیے مقرر

upremecour.jpg

اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے لانگ مارچ روکنے کے لیے راستوں کی بندش اور چھاپوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے وکلاء کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم بینچ کرے گا۔
دائر کردہ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ راستوں کی بندش سے عدالتوں، اسپتالوں اور دفاتر جانے والے شہری مشکلات کا شکار ہیں، پولیس وکلاء کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے جبکہ سیاسی ورکرز اور اراکین اسمبلی کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ حکومت اور اداروں کو تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے اور ریاستی اداروں کو کوئی بھی غیرآئینی قدم اٹھانے سے روکا جائے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی گرسرمیاں اور احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینئر وکیل بابر اعوان، فواد چوہدری کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے اور وکلاء کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کی پٹیشنز سماعت کے لیے منظور
اسلام آباد ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے لانگ مارچ کے راستے بند کرنے اور چھاپوں کے خلاف تحریک انصاف راولپنڈی، جہلم اور چکوال کی پٹیشنز سماعت کے لیے منظور کرلیں۔
کورٹ نے سی پی او راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اٹک، جہلم، ڈپٹی کمشنر چکوال جہلم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل صبح ذاتی طور پر طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو گرفتاریوں،چھاپوں، ہراساں کرنے سے بھی روک دیا ہے جبکہ گرفتار شدگان کو بھی پیش کرنیکا حکم دیا ہے۔
پٹیشنیں ضلعی صدر واثق قیوم عباسی، جہلم اور چکوال تحریک انصاف نے دائر کی تھیں۔
راولپنڈی بینچ کے جج سردار احمد نعیم نے سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پرامن احتجاج ہر شہری،سیاسی جماعت کا آئینی بنیادی حق ہے جس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔
عدالت نے انتظامیہ سے تفصیل طلب کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی ڈویژن میں لگائے گئے کنٹینروں کی مکمل تفصیلات کل پیش کی جائیں

Top