حمزہ شہباز کا ریلیف پیکیج محدود اختیار سے تجاوز ہے، فواد چودھری کا سپریم کورٹ کو خط

7.jpg

اسلام آباد: تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر فواد چودھری نے سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے ریلیف پیکیج کے اعلان کو محدود اختیارات سے تجاوز قرار دیا ہے۔
ذرائعکے مطابق سابق وفاقی وزیر نے خط میں لکھا ہے کہ یکم جولائی 2022ء کو عدالت عظمیٰ نے پنجاب کو دستوری پیچیدگیوں اور بحران سے بچانے کے لیے ایک فارمولا وضع کیا، جس کی بنیاد اس میثاق پر قائم کی گئی کہ پنجاب میں ضمنی انتخاب کے صاف، شفاف اور آزادانہ انعقاد پر کسی قسم کا حملہ نہیں کیا جائے گا۔
فواد چودھری کا کہنا ہے کہ عارضی وزیراعلیٰ حمزہ شریف، 22 جولائی تک محض ضابطے کے اختیارات ہی بروئے کار لائیں گے جب کہ عدالت کے سامنے حمزہ شہباز نے خود بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ انتخابات میں دھاندلی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کے انفرادی و سرکاری کردار پر پاکستان تحریک انصاف سنگین نوعیت کے تحفظات بھی رکھتی ہے۔
خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے عدالتِ عظمیٰ کے واضح احکامات اور انتخابی ضابطۂ اخلاق کو پیروں تلے روند دیا ہے۔ ضمنی انتخابات سے چند روز قبل صوبے کے عوام کے لیے ایک پریس کانفرنس، جسے قومی ذرائع ابلاغ بشمول سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) نے براہِ راست نشر کیا، میں پیکیج کا اعلان کیا ہے۔اس پیکیج کی تفصیلات قومی روزناموں نے بھی شائع کی ہیں۔
فواد چودھری نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک جعلی پیکیج ہے، جس پر عملدرآمد ناممکن ہو گا، تاہم اس کا مقصد عدالت سے حاصل ریلیف کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا اور عام ووٹر کا ووٹ متاثر کرنا ہے۔

ملک بھر میں مزید 100 یوٹیلیٹی اسٹورز کھولنے کا فیصلہ

6.jpg

اسلام آباد: حکومت نے ملک بھر میں مزید 100 یوٹیلیٹی اسٹورز کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائعکے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے جنرل مینیجر (جی ایم) کا کہنا ہے کہ کراچی، خیبر پخونخوا اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تقریباً 100 اسٹورز کھولے جائیں گے۔

جی ایم یوٹیلیٹی اسٹورز عنایت اللہ دولہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم ریلیف پیکج کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے سمری تیار کررہے ہیں۔
بعدازاں وزارت صنعت و پیدوار سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو ارسال کی جائے گی۔

جامعہ کراچی خودکش حملے میں ملوث کالعدم تنظیم کا اہم دہشت گرد گرفتار

5-1.jpg

کراچی: قانون نافذ کرنے والے ادارے نے جامعہ کراچی خودکش حملہ کیس کے سلسلے میں کالعدم قوم پرست تنظیم کے اہم دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد کا جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کی وین کو خودکش حملے کا نشانہ بنانے والی خاتون شاری بلوچ کے شوہر ہیبتان بلوچ سے رابطہ بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے علاوہ گلبائی میں چینی انجینئرز کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنانے میں ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد نے بارودی مواد اور بم بنانے کی تربیت بھی حاصل کی ہوئی ہے۔
گرفتاری کے بعد اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والا حملہ خودکش تھا جس میں ایک خاتون ملوث تھی، کیس کی تمام اداروں نے ملک کر تفتیش کی، چوتھے دہشت گرد کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کالعدم بی ایل ای نے حملے کی ذمے داری قبول کی جس کے بعد کالعدم بی ایل اے کے کمانڈر کو کارروائی میں گرفتار کیا گیا، دہشت گرد حملے کے بعد بلوچستان بھاگ گیا تھا، حملے کا ماسٹر مائنڈ پڑوسی ملک کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوا، گرفتار دہشت گرد سلیپر سیل کا کمانڈر ہے۔

بابرغوری جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

4-1.jpg

کراچی: کراچی: پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر بابر غوری کو عدالت میں پیش کرکے ان کا 12 جولائی تک ریمانڈ حاصل کرلیا۔

ذرائعکے مطابق بابر غوری کو وطن واپسی پر گزشتہ روز کراچی ائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ وہ متعدد کیسز میں نیب کو مطلوب ہیں۔ آج پولیس نے انہیں اشتعال انگیز تقریر کے مقدمے میں عدالت میں پیش کیا۔ پیشی کے دوران پولیس نے انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے مفرور ملزم بابر غوری پر اشتعال انگیز تقریر پر تالیاں بجانے کا الزام ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں فیصل سبزواری سمیت 30 ملزمان شامل ہیں، جن میں نسرین جلیل، حیدر عباس رضوی، رضا ہارون، سیف یار خان، ریحان ہاشمی، خواجہ اظہار، ڈاکٹر فاروق ستار، رشید گوڈیل، رؤف صدیقی، وسیم اختر، خالد مقبول صدیقی، قمر منصور اور دیگر بھی نامزد ہیں۔
مقدمہ رمضان نامی شخص کی مدعیت میں 2015ء میں سپر ہائی وے صنعتی ایریا تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس کے مطابق ملزمان نے پاکستان کے کروڑوں عوام کا دل دکھایا، بانی ایم کیو ایم ہڑتالیں اور دو قومی نظریے کے خلاف اکسارہے تھے۔

دوران سماعت وکیل شبیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ضمانت حاصل کرنے باوجود بھی بابر غوری کو گرفتار کیا گیا۔ بابر غوری نے نیب ریفرنس میں حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی تھی، جس پر عدالت نے نیب اور ایف آئی اے کو بابر غوری کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے نیب ریفرنس اور منی لانڈرنگ کیس میں حفاظتی ضمانت میں 9 دن کی توسیع کرتے ہوئے بابر غوری کو 9 دن کے اندر ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت بابر غوری نے ادویات فراہم کرنے کی استدعاکرتے ہوئے کہا کہ میں بیمار ہوں، مجھے ادویات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو مکمل طبی سہولیات دی جائیں گی۔ عدالت نے بابر غوری کو ادویات اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

بعد ازاں عدالت نے بابر غوری کو 12 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ۔

لاپتا افراد کیس میں وزیراعظم اسلام آباد ہائی کورٹ طلب

2344438-IslamabadHighcourtFile-1656919190-214-640x480-1.jpg

اسلام آباد: لاپتا افراد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مدثر نارو سمیت 6 لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر وزیراعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کا 9 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عدالت میں پیش ہوکر آئین میں دی گئی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجوہات بتائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق وزیراعظم بتائیں کہ جبری گمشدگی کے غیر انسانی فعل میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن لیا ؟ ۔  حکم نامے کے مطابق وزیراعظم کی پیشی کا وقت 9 ستمبر صبح ساڑھے 10 بجے ہو گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کو بھی لاپتا افراد کیس میں دلائل کا آخری موقع دیا جاتا ہے۔ جے آئی ٹی نے کئی کیسز کو جبری گمشدگی ڈکلیئر کیا۔ لاپتا افراد کمیشن میں زیر التوا کیسز نے متاثرین کی تکلیف کو گہرا ہی کیا۔ وزیراعظم کو عملاً دکھانا ہو گا کہ جبری گمشدگی ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی نہیں۔

قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق کیسز میں نئی متفرق درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر حکومت لاپتا افرادکیسز میں اقدامات نہیں کرتی تو9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت کو ریاست کا ردعمل نظر آئے گا۔

لاپتا افراد کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواست کے ساتھ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ کے انٹرویوز کا ٹرانسکرپٹ بھی منسلک کیا گیا، جس میں وزرا نے لاپتا افراد سے م تعلق اہم نقاط پر گفتگو کی تھی۔

سماعت کے دوران لاپتا افراد کی جانب سے وکلا انعام الرحیم، ایمان مزاری اور دیگر جب کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ فائل کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دو فورمز نے ڈکلیئر کردیا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے پھر کیا ہوا ؟  جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے ۔ یہ ساری ایجنسیز کس کے کنٹرول میں ہیں ؟ کون ذمے دار ہے ؟۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایجنسیز وفاقی حکومت کے زیر کنٹرول ہیں ۔ وزیر داخلہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں ہیں کیس ملتوی کیا جائے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ التوا نہیں ہو گا یا تو کیس پر دلائل دیں یا چیف ایگزیکٹو کو سمن کریں گے۔ یہ بڑا کلئیر ہے کہ نہ موجودہ نہ سابقہ حکومت کا لاپتا افراد متعلق ایکٹیو رول ہے ۔ سب سے بہترین اینٹلی جنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا ڈیکلیئر کیا ہے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی، بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ بنیادی ذےداری وفاقی حکومت اور چیف ایگزیکٹو کی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ کابینہ کی کمیٹی ان تمام ایشوز کو دیکھے گی ۔ ان کیسز میں مانتے ہیں کہ اس طرح نہیں ہو رہا جس طرح ڈیل ہونے چاہییں تھے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ عدالت کسی کو Accountable  ٹھہرانا چاہتی ہے، جس کے دور میں مسنگ ہوئے وہ ذمہ دار ہیں ۔ اگر احساس ہوتا تو ان کو عدالت آنے ہی نہ دیتے ان کو تلاش کرتے ۔ تمام اسٹیٹ ایجنسیز کہہ رہی ہیں تو پھر ریاست کو لاپتا فرد کو پیش کرنا چاہیے تھا ۔دو سال سے تو لاپتا افراد کمیشن نے پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے ۔

سماعت کے دوران دو لاپتا بیٹوں کے والد نے عدالت کو بتایا کہ میرے بیٹوں کے کیس میں بھی جے آئی ٹی کی رپورٹس ہیں کہ یہ جبری گمشدگی کے کیسز ہیں۔  وکیل انعام الرحیم نے عدالت کو بتایا کہ 35 افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے سامنے کہا گیا تھا کہ یہ آرمی اتھارٹیز کے پاس ہیں۔ عدالت نے کہا کہ 2013 کا سپریم کورٹ کا آرڈر ہے۔ یہ بہت سیریس معاملہ ہے، نیشنل سکیورٹی سے متعلق ہے ،کیوں آرمڈ فورسز پر اس قسم کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے خلاف کوئی نظرثانی درخواست دائر ہوئی ؟ ۔

عدالت نے کہا کہ اگر کلبھوشن یادیو کی فیملی سے میٹنگ کرا سکتے ہیں تو مسنگ پرسنز کی فیملیز کے ساتھ کیوں نہیں؟ چیف جسٹس نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کمیٹی نے بلایا ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں نے لیٹر بھی لکھا ہے لیکن کمیٹی نے بلایا نہیں ہے ۔

سماعت کے دوران فرحت اللہ بابر نے عدالت سے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ میں ثبوت دوں گا ریاست کی ایجنسیز اس میں ملوث ہیں۔ 2019 میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ تمام لاپتا افراد تو نہیں کچھ ہمارے پاس ہیں ہم ایک سیل بنائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فرحت اللہ بابر صاحب منتخب حکومت پارلیمنٹ نے کیا کیا ہے ، یہ تو آپ تسلیم کر رہے ہیں سویلین کنٹرول نظر انداز ہے ، آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے ، آئی ایس آئی وزیراعظم کے ڈائریکٹ کنٹرول میں ہے ، پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا پارلیمنٹ یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ وہ helpless  ہیں ؟۔پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہیں ۔ جب آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ helpless  ہے تو پھر چیف ایگزیکٹو آکر یہ کہے ۔ پھر آپ عدالت سے کیا توقع رکھتے ہیں یہ نیشنل سکیورٹی کا ایشو ہے ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ باتیں سب کرتے ہیں عملاً کوئی کچھ کام نہیں کرتا ۔

عدالت نے سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی کو روسٹرم پر طلب کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت لگ سکتی ہے تو قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی بے بس نہیں ہر ایک نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے ۔ اگر کوئی بات نہیں مانتا تو اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی ہونی چاہیے ۔ اگر کوئی ملٹری پرسن بھی ایسا کرتا ہے تو اس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف ان کا نہیں ہے، بائیس کروڑ عوام کی سکیورٹی کا بھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمزور ہوتی ہے جب ان (لاپتا افراد کی فیملیز )کو شک ہو کہ آرمڈ فورسز ملوث ہیں۔  نو دس سال حکومت کرنے والے چیف ایگزیکٹو نے جب کتاب میں لکھ دیا کہ یہ ریاست کی پالیسی تھی تو پھر کیا رہتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرمڈ فورسز کا وقار ہمارے مدنظر ہے اگر وہ ملوث ہیں تو ان کو بھی Accountable  ہونا چاہیے ۔ عدالت آپ کو کچھ وقت دے رہی ہے اگر کچھ نہ ہوا تو پھر چیف ایگزیکٹو کو بلائیں گے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو کہا کہ حکومت کا رسپانس عدالت کو نظر آئے گا ۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کردی۔

پنجاب حکومت کا فرح شہزادی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا اعلان

2344237-farahgogoi-1656858526-601-640x480-1.jpg

لاہور: حکومت پنجاب نے سابق خاتون اوّل بشری بی بی کی سہیلی فرح شہزادی کو وطن واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا اعلان کردیا۔

لاہور میں صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ اور وزیر قانون ملک احمد خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرح گوگی کے خلاف چارج شیٹ جاری کی اور کہا کہ عمران خان انہیں واپس لائیں۔

وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ ’فرح گوگی نے 10 ایکڑ کا انڈسٹریل پلاٹ جو کہ 60 کروڑ روپے مالیت کا تھا وہ صرف 8 کروڑ 30 لاکھ روپے میں اپنے نام کروایا، اُن کے شوہر احسن جمیل نے جعلی بینک گارنٹی لے کر پلاٹ اپنے نام منتقل کروایا جب کہ بشریٰ بی بی بنی گالہ میں بیٹھ کر اس سارے معاملات کو ڈیل کرتی رہیں‘۔

فرح شہزادی کا صوبائی وزرا کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان

2344223-afarha-1656856537-707-640x480-1.jpg

لاہور: سابق خاتونِ اوّل کی سہیلی فرح خان (شہزادی) نے پنجاب کے صوبائی وزرا عطا تارڑ اور ملک احمد خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کردیا۔

ذرائعکے مطابق فرح شہزادی نے صوبائی وزرا کی پریس کانفرنس میں عائد الزامات کو من گھڑت اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ عطا تارڑ اور وزیر قانون ملک احمد خان کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔

فرح شہزادی کے وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ عطا تارڑ کے خلاف ہتک عزت کا دعوی سول عدالت میں دائر کیا جا رہا ہے کیونکہ صوبائی وزرا نے جس پلاٹ سے متعلق الزام لگایا جا رہا اُسے قانونی تقاضے پورے کر کے خریدا گیا۔
اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے فرح شہزادی کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کمپنی کا نام لیا جا رہا ہے وہ ایس ای سی پی میں 26 نومبر 2020 سے رجسٹرڈ اور فرح خان اور اُن کی والدہ بشرا خان اس کے شئیر ہولڈر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس پلاٹ کا الزام لگایا جا رہا ہے اس کی صرف 1 قسط ہی ادا کی گئی ہے، اس پلاٹ کی ابھی عارضی آلاٹمنٹ ہوئی ہے، اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی بھی ہے تو پلاٹ کینسل ہو سکتا ہے۔
اظہر صدیق ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ فرح شہزادی کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہے اور مقدمے میں بھی اُن ہی دفعات کو شامل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر اب تک فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جس پلاٹ کا الزام لگایا گیا اُس پر حکم امتناعی آنے کے بعد کوئی قسط تاحال ادا نہیں کی گئی اور یہ اراضی ابھی تک فرح خان کی ملکیت میں بھی نہیں آئی، درخواست کی فیس 31 ہزار جبکہ ابتدائی طور پر 2 کروڑ 7 لاکھ 50 ہزار جمع کروائے گئے، بقیہ 8 اقساط تھیں جو ہر 3 ماہ بعد جمع کروانا تھیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پلاٹ کی مالیت 8 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے، تین ماہ بعد قسط 77 لاکھ 85 ہزار ہے، جس میں سے صرف 1 قسط فروری میں 77 لاکھ 81 ہزار 150 روپے آدا کی گئی، اُس کے بعد عدالتی معاملہ آیا تو اقساط کو روک لیا گیا تھا۔
اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ اس معاملے سے عمران خان اور سابقہ خاتون اول بشری بی بی کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ سارا معاملہ عمران خان اور اُن کی اہلیہ کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔
صوبائی وزرا کی پریس کانفرنس
قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ اور وزیرقانون ملک احمد خان نے پریس کانفرنس میں سابق خاتون اوّل بشری بی بی ، عمران خان اور فرح گوگی پر الزامات عائد کیے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’لوٹ کر کھا گئے پاکستان، بشریٰ، گوگی اور کپتان‘‘، فرح گوگی نے 10 ایکڑ کا انڈسٹریل پلاٹ جو کہ 60 کروڑ روپے مالیت کا تھا وہ پلاٹ 8 کروڑ 30 لاکھ روپے میں اپنے نام کروایا، احسن جمیل نے جعلی بینک گارنٹی لے کر پلاٹ اپنے نام منتقل کروایا جب کہ بشریٰ بی بی بنی گالہ میں بیٹھ کر ڈیل کرتی تھی‘۔
عمران خان کی کرپشن پر نیٹ فلیکس کی سیریز بنے گی، عطا تارڑ
انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے چور ہیں، عمران خان کی کرپشن پر تو نیٹ فلیکس میں سیریز بنے گی کیوں کہ فرح گوگی، بشری بی بی اور جمیل گجر کی ٹرائیکا کے سربراہ عمران خان ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان فرح گوگی اور اس کے خاوند کو واپس لائیں، ہم فرح گوگی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے جارہے ہیں، آپ کا کوئی ڈاکا 50 کروڑ سے کم کا نہیں، آپ کی کرپشن سامنے آتی ہے تو آپ فوج کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں اور اداروں پر حملے شروع کردیتے ہیں۔

بجلی کے شارٹ فال میں مزید اضافہ، مختلف علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ

2344072-electricity-1656832830-349-640x480-1.jpg

اسلام آباد: ملک میں بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار 787 میگاواٹ ہوگیا، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی مجموعی پیداوار 21ہزار213 میگاواٹ ہے جبکہ کل طلب 29 ہزار میگاواٹ ہے۔
پانی سے 5 ہزار 430 میگاواٹ اور سرکاری تھرمل پلانٹس سے 1ہزار 705 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 10ہزار 241میگاواٹ ہے۔
ونڈ پاور پلانٹس ایک ہزار 629 میگاواٹ اور سولر پلانٹس سے پیداوار 113 ہے، بگاس سے چلنے والے پلانٹس 120میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور جوہری ایندھن سے 2ہزار 275 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے۔

دو پرائیویٹ افراد کی آڈیو لیک کرنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے، فیاض الحسن چوہان

2344118-fayaz-1656840944-757-640x480-1.jpg

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ دو پرائیویٹ افراد کی آڈیو لیک کرنا غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔

سابق خاتون اوّل بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک پر فیاض الحسن چوہان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیو لیک کا حال بھی توشہ خانہ اور دیگر الزامات کی طرح ہوگا، پریڈ گراؤنڈ کا کامیاب جلسہ آڈیو لیک کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آڈیو ویڈیو لیکس والی سیاست عمران خان کے مشن کا راستہ نہیں روک سکتی، عمران خان پوری جرات اور دلیری سے انجمن غلامان امریکا کا مقابلہ کر رہے ہیں، امریکی سازش کا شکار ہونے والے لوٹے غدار نہیں تو کیا ٹیپو سلطان کہلائیں جائیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے لاکھوں شہریوں کی جلسے میں شرکت عمران خان پر اعتماد ہے۔

روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے ذریعے17 ہزار حجاج کی امیگریشن

2344214-hajjpilgrims-1656855188-977-640x480-1.jpg

اسلام آباد: روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے ذریعے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر 17077 حجاج کی امیگریشن کی گئی۔
اسلام آباد ائیرپورٹ حکام کی رپورٹ کے مطابق روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے ذریعے 52 فلائٹس میں 17077 حجاج اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہوئے، پراجیکٹ کی پہلی فلائٹ 6 جون اور آخری 2 جولائی کو روانہ ہوئی۔
ائیرپورٹ حکام کے مطابق منصوبے کے تحت پی آئی اے کی 21 فلائٹ پر 7174 مسافروں کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن کر کے سعودی عرب پہنچایا گیا، سعودی ائیرلائن کی 17 فلائٹس کے ذریعے 6189 حجاج امیگریشن کے بعد روانہ ہوئے جبکہ نجی ائیرلائن سیرین ائیر 10 اور ائیربلیو کی 4 فلائٹس نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔
حکام کے مطابق نجی ائیرلائنز کے ذریعے حج پر جانے والے 3714 عازمین کو بھی پاکستان میں امیگریشن کی سہولت فراہم کی گئیں، پراجیکٹ کا مقصد حجاج کو سعودی عرب پہنچنے پر تاخیر اور پریشانی سے بچانا تھا۔

Top