ملازمت سے متعلق تحفظات ادھیڑ عمر افراد کی یادداشت کمزور کرسکتا ہے، تحقیق

12345-226.jpg

شکاگو(ویب ڈیسک)حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ادھیڑ عمر میں ملازمت کے بارے میں فکر مند لوگوں میں عمر کے ساتھ ساتھ یادداشت میں کمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے
یادداشت کا جائزہ لینے کیلئے چند ٹیسٹس پر مشتمل مطالعہ ترتیب دیا گیا جس میں ملازمت میں عدم تحفظ کے شکار 50 سے 60 کی دہائی والے افراد اور ملازمت کے حوالے سے مطمئن شرکا نے حصہ لیا۔
محققین نے بتایا کہ جن شرکا نے نوکری سے نکالے جانے یا جبری ریٹائرمنٹ پر مجبور کیے جانے کا خدشہ تھا ان کے میموری ٹیسٹس میں اوسطا 3 فیصد کم اسکور تھے۔
محققین کے مطابق ملازمت کے حوالے سے عدم تحفظ کے شکار افراد میں موٹاپے کا امکان تقریبا 10 فیصد، اور عارضہِ قلب اور ذیابیطس کے امکانات 20 فیصد تھے۔ علاوہ ازیں محققین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان ادھیڑ عمر افراد میں ڈپریشن کا امکان بھی بنسبت دوسرے شرکا کے تقریبا دوگنا تھا۔
مطالعہ کے شریک مصنف لنڈسے کوبایاشی نے بتایا کہ نوکری چلی جانے کی فکر یا خوف 55 سال کی عمر کے بعد یادداشت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔

ڈپریشن اور امراضِ قلب کے درمیان نیا تعلق دریافت

123-15.png

پورٹ آف اسپین(ویب ڈیسک) ہم جانتے ہیں کہ ڈپریشن اور مایوسی سے امراضِ قلب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے لیکن یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کے امراض مریض کو ڈپریشن اور یاسیت میں دھکیل سکتیہیں۔
نئے تحقیقی سروے کے مطابق عمررسیدہ افراد اگر دل کیامراض کے خطرے میں گرفتار ہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ ڈپریشن کے شکار بھی ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں کی پشت پر یکساں جسمانی کیفیات ہیں جن میں اندرونی جلن (انفلیمیشن) اور دیگر بایومارکر شامل ہیں۔
اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ قلبی صحت کو بہتر بنا کر خود ڈپریشن سے بھی دور رہا جاسکتا ہے۔ 13 اپریل کو پی ایل او ایس ون میں شائع رپورٹ کے مطابق اسپین کی جامعہ غرناطہ کی پروفیسر سینڈرا مارٹن اور ان کے اتھیوں نے اس ضمن میں ایک بھرپور تحقیق کی ہے جس میں امراضِ قلب اور ڈپریشن کے درمیان ایک نیا تعلق سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل ماہرین بتاچکے ہیں کہ امراضِ قلب اور ڈپریشن دونوں میں ہی اندرونی جلن (انفلیمیشن) کے ساتھ آکسیڈیٹو اسٹریس بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس سیقبل ہم جان چکے ہیں کہ ڈپریشن کے حامل افراد میں دل کی بیماریوں کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کا الٹ عمل یعنی دل کی بیماریوں سے ڈپریشن کی کیفیت کو اس سے قبل بطورِ خاص نہیں دیکھا گیا تھا۔
اس ضمن میں سائنسدانوں نے کئی مراکز سے حاصل شدہ 6 برس کا ڈیٹا لیا گیا ہے۔ اس میں میڈیٹرینیئن ڈائٹ کے اثرات کا ایسے خواتین و حضرات پر جائزہ لیا تھا تھا جن کی عمریں 55 سے 75 برس تھی۔ خواتین کی عمرین 60 سے 75 برس تھیں اور ان میں سب ہی زائد وزن اور موٹاپے کی جانب گامزن تھے۔ ان میں سے 6545 افراد میں شروع میں دل کے مرض کی کوئی کیفیت نہ تھی۔ لیکن مریضوں میں طرزِ زندگی کے طور پر انہیں دل کے خطرے کے کم، درمیانے اور بلند درجے میں تقسیم کیا گیا۔ سوالنامے میں ان میں ڈپریشن کی کیفیت معلوم کی گئی اور ہر دوبرس بعد اس کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیقی سروے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن خواتین و حضرات میں امراضِ قلب کے خطرات زیادہ تھے عین اسی لحاظ سے ان میں ڈپریشن کا رحجان یا خطرہ زیادہ تھا۔ تاہم ان تمام افراد نے یہ ضرور کہا کہ میڈی ٹرینیئن ڈائٹ سے ان میں امراضِ قلب اور ڈپریشن کا خطرہ بھی کم ہوا تھا۔
تحقیق سیمعلوم ہوا کہ بالخصوص امراضِ قلب کی نہج پر پہنچی ہوئی خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوسکتی ہیں۔

خوبصورتی کے لیے بجلی اور روشنی کا دستی بیوٹی پارلر

123-14.png

نیویارک(ویب ڈیسک) برقی مساجر بنانے والی کمپنی تھیرابوڈی نے ایک انقلابی مساج گن بنائی ہے جو نازک جلد پر گردوغبارصاف کرنے کے ساتھ ساتھ دردِ سر دور کرنے کا مساج بھی کرتی ہے۔
اس مساجر کا نام تھیرافیس پرو رکھا گیا ہے جو خردبرقی (مائیکروکرنٹ) کی ہلکی مقدار اور روشنی کو استعمال کرتی ہے۔ 399 ڈالر کے مساجر کے ارتعاشات جلد میں تین ملی میٹر گہرائی تک پہنچتے ہیں۔ ایک مساجر کے ساتھ تین بیرونی آلات ہیں جو اپنے اپنے استعمال کیلیے ڈیزائن کئے گئے۔ ہموار پینل عام استعمال کے لیے، کون شکل کا آلہ آنکھ اور ہونٹوں کے اطراف کے لیے جبکہ مائیکروپوائنٹ اٹیچمنٹ سے جلد کے وسیع حصوں یعنی پیشانی اور گال وغیرہ پر مساج کیا جاسکتا ہے۔
مساجر چہرے سے گردوغبار، تیل اور دیگرکثافتیں صاف کرتا ہے۔ اس سے کرنٹ کی معمولی مقدار خارج ہوتی ہے جو جلد کی ٹوننگ کرکے اسے ہموار بناتی ہے۔ اس دوران سرخ اور نیلی ایل ای ڈی چہرے سے جھائیاں اور جھریاں دور کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق سائنسی طور پر بعض ثبوت کے تحت روشنی کی تھراپی سے چہرے کو بہتربنایا جاسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ لائٹ اور کرنٹ تھراپی کے لیے بھی اسے ایف ڈی اے کی منظوری مل چکی ہے۔

ایف ڈی اے نے دل کی دھڑکن ناپنے کیلیے فٹ بٹ واچ کی منظوری دیدی

123-13.png

کیلفورنیا(ویب ڈیسک) ایپل واچ سمیت کئی فِٹ بِٹ آلات بطورِ خاص دل کی دھڑکن ناپنے کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ( ایف ڈی اے) کی منظوری کے منتظر تھے۔ اب ادارے نے باضابطہ طور پر اسے پیسوو ہارٹ ردم مانیںٹرنگ کے لیے منظور کرلیا گیا ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کے تحت فِٹ بِٹ وقفے کے ساتھ دن میں کئی مرتبہ دل کی دھڑکن اور اس میں اتارچڑھا کو نوٹ کرتا ہے اور کسی خطرناک کیفیت کی صورت میں دیکھتا ہے کہ کیا دل کی کیفیت متاثر ہورہی ہے؟ اسے ہم آرٹیریئل فِبلریشن کہا جاتا ہے۔یہ کیفیت ایک جانب تو مریض کو فالج تک لے جاسکتی ہے اور دوم ان کو جان کے لالے بھی پڑسکتے ہیں۔
فِٹ بٹ سافٹ ویئر سے خود مریض بھی اپنی کیفیات جان سکتے ہیں ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ آلہ پس منظر میں رہ کر دل کی کیفیت اور دھڑکن نوٹ کرسکتا ہے۔
فٹ بٹ نے 2020 میں یہ فیچر پیش کیا تھا۔ اسے کئی افراد پر آزمایا گیا تو اس نے 98 فیصد درستگی سے دل کی بے ترتیب دھڑکن کے کئی کیس شناخت کئے اور ان مریضوں کی جان بچانا ممکن ہوئی۔ پھر ایپل واچ میں اسے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد ایپل نے اپنے فٹ بٹ کے لیے بار بار ایف ڈی اے سے رابطہ کرتی رہی تھی۔ دو ماہ قبل ایپل نے دوبارہ ایف ڈی اے سے درخواست کی تھی کہ وہ نئے مصدقہ ثبوت کی روشنی میں اسے عام استعمال کی منظوری دیدے۔
اگرچہ اب بھی فٹ بٹ آلات روایتی آلات کے مقابلے میں قدرے مثر نہیں لیکن اس سے خطرناک مواقع کی نشاندہی کرکے مریض فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال جاسکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ فٹ بٹ پہننے سے دل کے مریض آٹریئل فبلریشن کو فوری طور پر شناخت ضرورکرسکتے ہیں۔ اس طرح دل کی کفییت پر مسلسل نظر رکھی جاسکتی ہے۔
فٹ بٹ نے اعلان کیا ہے کہ منظوری کے بعد سب سے پہلے اسے امریکی عوام کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سافٹ ڈرنک اور مصنوعی مٹھاس سے جگر متاثر ہوسکتا ہے

12345-200.jpg

وسکانسن(ویب ڈیسک) انسانی جسم کی سب سے پیچیدہ مشین جگر ہے جو 50 ہزار کیمیائی تعامل انجام دیتی ہے۔ اب ماہرین نے سالماتی سطح پر معلوم کیا ہے کہ سافٹ ڈرنکس، سوڈا اور مصنوعی مٹھاس کے مشروبات جگر کو متاثر کرتے ہیں اور بالخصوص اس کی زہرربائی (ڈی ٹاکسفکیشن) کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔
یوں ان مشروبات سے جگر کی وہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے جس سے وہ زہریلے مرکبات نکال باہر کرتا ہے۔ اس ضمن میں میڈیکل کالج آف وسکانسن میں ایک تحقیق ہوئی ہے جس میں پہلی مرتبہ وہ پورا سالماتی اور کیمیائی عمل معلوم کیا جس کے تحت سافٹ ڈرنکس اور مصنوعی مٹھاس والے مشروبات جگرپراثر ڈال کر اس کی زہریلے مرکبات نکال باہر کرنیکی صلاحیت متاثر کرتیہیں۔
اس ضمن میں ایک اہم پروٹین متاثر ہوتا ہے جو استحالے کے تحت بدن سے فاسد مواد باہر نکالتا ہے۔
میڈیکل کالج سے وابستہ ڈاکٹریٹ کی طالبہ لارا ڈینر کہتی ہیں کہ زیرہ شکر والے مشروبات اورکم چینی والے پیک شدہ دہی بھی یکساں مضر ہیں۔ اس کے علاوہ میک اپ اور دیگر ناقابلِ تناول اشیا کے کیمیکل بھی جگر پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس پروٹین کا نام پی گلائکوپروٹین (پی جی پی) ہے۔ جب اس پر پر جب سافٹ ڈرنکس کے دو اہم کیمیائی اجزا ایسیسل فیم پوٹاشیئم اور سکلریروز پڑتے ہیں تو وہ اس پروٹین کو متاثر کرتے ہیں جسے ملٹی ڈرگ پروٹین ون (ایم ڈی آر ون) بھی کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پی جی پی ہمارے بدن کو زہریلے مرکبات اور فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی مٹھاس کے اجزا پی جی پی سے چپک جاتے ہیں اور اس کی صلاحیت پراثرانداز ہوتے ہیں۔ یوں جگر زینو بایوٹکس، ادویاتی کیمیائی اجزا اور بائل تیزاب بھی باہر نہیں نکال پاتے۔
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مقدار سے کم مٹھاس والے مشروبات بھی جگر کو یکساں طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کے جگر اپنے پی جی پی پروٹین کی بدولت دوا کے مضر کیمیکل بھی نکال باہر کرتا ہے ۔ یہ زہریلے کیمیکل اینٹی بایوٹکس اور بلڈ پریشر کی دوا سے وجود میں آتیہیں۔
اگرچہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن تحقیقی ٹیم نے لوگوں کو میٹھے مشروبات اور سافٹ ڈرنکس سے پہلے ہی خبردار کرتے ہوئے ان کا استعمال کم سے کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

گہری نیند لانے والا طبی ہیڈ بینڈ

123-11.png

زیورخ(ویب ڈیسک) اسے سلیپ لوپ کا نام دیا گیا ہے جو ابتدائی تجربات میں بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ یہ پہناوا خاص فری کوئنسی کی آواز خارج کرکے دماغ کی ان امواج کو دباتا ہے جو نیند میں خلل ڈالتی ہیں۔ یوں دھیرے دھیرے آپ گہری نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔
یہ ان لوگوں کیلیے بطورِ خاص بنایا گیا ہے جن کی نیند بہت متاثرہو ہوتی ہے اور بالخصوص عمر کے ساتھ ساتھ کچی نیند معمول کا حصہ بن جاتی ہے۔ طبی سائنس کیمطابق گہری نیند پورے بدن کے لئے ضروری ہوتی ہے اور وہ دماغ سیفاسد مواد بھی خارج کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ دماغی خلیات کی ٹوٹ پھوٹ دور کرنے میں گہری نیند بہت ضروری ہوتی ہے۔
ای ٹی ایچ زیورخ میں واقع اعصابی تجربہ گاہ کی سائنسداں ڈاکٹر کیرولین لسن برگر کہتی ہیں کہ ہمارے دماغ میں دھیمی امواج (سلو ویوز) ہیڈفون کی مخصوص آوازوں سے مزید بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ تجربہ گاہ میں مریضوں پر اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور لوگوں نے گہری نیند کا اعتراف کیا تاہم اب اسے گھروں میں آزمانا باقی ہے۔
اسے سلیپ لوپ کا نام دیا گیا ہے جو ایک قسم کا ہینڈ بینڈ ہے جسے رات بھر پہننے سے گہری نیند لائی جاسکے گی۔ اس میں ہیڈ بینڈ میں الیکٹروڈ اور مائیکروچپ نصب ہے جو دماغی سرگرمی نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ رئیل ٹائم میں دماغ کی لہروں کو بھی نوٹ کیا جاتا رہے گا۔
جسے ہی دماغ سست امواج کے تحت گہری نیند میں داخل ہوتاہے سلیپ لوپ خاص قسم کی قابلِ سماعت آوازیں خارج کرتا ہے تو نیند لانے والے دماغی خلیات سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے سست دماغی لہروں کو بڑھاتی ہیں۔ اس طرح سونے کی کوشش کرنے والا شخص لاشعوری طور پر گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔
پہلے مرحلے میں 60 سے 80 سال تک کے افراد کوسلیپ لوپ پہنا کر تجربہ گاہی مشاہدات میں شامل کیا گیا۔ اسے گھر میں بھی آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تمام شرکا نے پہننے کے بعد گہری نیند کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ آلے کو پہننا اور چلانا بھی ایک آسان عمل ہے۔
چار ہفتوں تک شرکا نے اس آلے کو استعمال کیا۔ دو ہفتے تک آلے نے کام نہیں کیا اور دو ہفتے تک وہ کام کرتا رہا۔ اس کی خبر نہ پہننے والے کو تھی اور نہ ہی سائنسدانوں کو اس کا علم تھا۔ تاہم صرف ڈیٹا ہی اس کی تصدیق کررہا تھا۔ لیکن جب جب نیند کی بہتری کی بات ہوئی عین اسی رات سلیپ لوپ کام کررہا تھا۔
معلوم ہوا کہ سننے والی آواز سے نیند کی لہروں کو فروغ دینا ممکن ہے۔ لیکن بعض شرکا نے دوسروں کے مقابلے میں اسے بہتر قرار دیا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اب ماہرین کو ہر شخص کے لحاظ سے سلیپ لوپ کو بہتربنانا ہوگا۔ ای ٹی ایچ کے ماہرین نے اسے بازار کی مصنوعات کے بجائے ایک طبی آلہ قرار دیا ہے جس میں بہتری کی گنجائش رہے گی۔
تاہم اگلے مرحلے میں اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔

پی ٹی ایس ڈی مرض شناخت کرنے والی مجازی ماڈل

123-10.png

البرٹا(ویب ڈیسک) ایلی ایک مجازی کمپیوٹر ماڈل کا نام ہے۔ یہ خاتون ماڈل مریضوں سے گفتگو کرکے ٹیکسٹ کی بنا پر بہت درستگی سے بتاسکتی ہے کہ آیا وہ تندرست ہے یا پھر صدمے کے بعد کے ذہنی تنا(پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہے۔
جامعہ البرٹا کے سائنسدانوں نے مشینی اکتساب (لرننگ) سے گزار کر ماڈل کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ لوگوں کے ادا کردہ الفاظ میں پوشیدہ اشاروں سے 80 فیصد درستگی سے اس میں پی ڈی ایس ڈی یعنی پوسٹ ٹرامٹک اسٹریس ڈس آرڈر اور ذہنی تنا کی تشخیص کرسکتی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ اس کی پشت پر ڈیٹا کی وسیع مقدار موجود ہے جس سے سافٹ ویئر ہرپل سیکھ کر آگے بڑھتا ہے اور سامنے بیٹھے شخص کی نفسیاتی کیفیات کا ادراک کرسکتا ہے۔
توقع ہے کہ اس طرح کے سافٹ ویئر کو گھر بیٹھے مریضوں کی شناخت، علاج اور ان کی ممکنہ نفسیاتی کانسلنگ (مشاورت) میں استعمال کیا جاسکے گا۔ یوں ٹیلی ہیلتھ کا ایک اور در کھلا ہے جس میں کمپیوٹر ماڈل ابتدائی ڈیٹا لے کر اپنی وضاحت دے سکیں گے۔
اس منصوبے کے لیے جامعہ البرٹا میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم جیف سوالا نے یوایس سی انسٹی ٹیوٹ فار کری ایٹو ٹیکنالوجیز سے وسیع ڈیٹا لیا ہے اور اسی پر سافٹ ویئر کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔
اس میں لوگوں کی تحریریں، بیانات اورٹویٹس تک شامل تھے۔ پھر ان کی درجہ بندی کی گئی۔ اس عمل میں مثبت اور منفی جملے اور الفاظ دیکھے گئے۔ وہ جملے اور بیانات بھی دیکھے گئے جو عموما ڈپریشن اور تنا میں رہنے والے افراد بار بار بولتے ہیں۔
تحقیق کے لیے کل 188 افراد کے کل 250 انٹرویو کا ٹیکسٹ (متن) دیکھا گیا اور ان میں 87 افراد ایسے تھے جنہیں ڈاکٹروں نے پی ٹی ایس ڈی کا مریض قرار دیا تھا۔
اس کے بعد ایلی نامی ماڈل کو انٹرویو کے لیے تیار کیا گیا جو بہت مہارت کے ساتھ سامنے بیٹھے شخص یا پھر مریض سے ایسے بات کرتی ہے کہ اس کی شخصیت کے جذباتی پہلو اور احساسات بہتر طور پر اجاگر ہوتے ہیں۔ اس دوران وہ مریض کو پی ٹی ایس ڈی یا تندرستی کینمبر دیتی ہے۔
لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہوتا۔ بسا اوقات سامنے بیٹھا شخص بند مٹھی کی طرح کھلتا ہی نہیں اور وہ مبہم جملے یا الفاظ کہتا ہے جس سے اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اسے مزید مریضوں کا ڈیٹا شامل کرکے بہتر بنایا گیا ہے۔
اگلے مرحلے میں مشینی ماڈل کے لہجے کی آواز، حرکات اور سکنات کو بھی مطالعے اور ٹیسٹ میں شامل کیا جائے گا۔

ہفتے میں ایک گھنٹہ ورزش، ڈپریشن کی شدت کم کرتی ہے

123-9.png

آئیووا(ویب ڈیسک) اگرچہ ورزش اور ڈپریشن میں کمی کا تعلق سائنسی طورپرسامنے آچکا ہے لیکن اب ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ کسرت فوری طورپر ڈپریشن کم کرتے ہوئے موڈ بحال کرتی ہے اور اس کے اثرات آگے تک بھی جاری رہتے ہیں۔
سائنسی طور پر ہم ورزش کے دوران اور ورزش کے فوری بعد دماغ اور مزاج پر اس کے اثرات سے سائنسی طور پر واقف نہ تھے۔ یہ تحقیق آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی میں جسمانی ورزش کے ماہر جیکب میئیر نے کی ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ صرف ایک مرتبہ ورزش کرنے کے بعد ڈپریشن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
سخت قسم کی اداسی اور ڈپریشن مریض کے دماغی سرکٹ و ساخت بدل جاتی ہے اور گویا وہ ناخوشی کی مستقل کیفیت میں گرفتار رہتے ہیں۔ اس طرح ان کی زندگی سے مسرت اور لطف دور ہوجاتا ہے اور ڈپریشن کے دورے پڑنے لگتے ہیں جنہیں اینی ڈونیا بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں دماغی پروسیسنگ متاثر ہوتا ہے اور یادداشت بھی کم کم ہونے لگتی ہے۔
تاہم ورزش کا ایک سیشن بھی دماغ کی جڑ پر اثر ڈال کر بنیادی ڈپریشن کو کم کرسکتا ہے۔
اس ضمن میں 30 رضاکاروں کو بھرتی کیا گیا۔ ان افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کرکے ایک کو نصف گھنٹے تک فکسڈ سائیکل تیزی سیچلانے کو کہا گیا، دوسرے گروہ کو اسی عرصے آرام کرایا گیا۔ اس کے بعد اینی ڈونیا کی پیمائش کے لیے سوالنامہ بھروایا گیا۔ اس کے بعد دماغی صلاحیت ناپنے کے مشہور ٹیسٹ بھی کروائے گئے جن میں اسٹروپ اور ورڈ ٹیسٹ بہت مشہور ہیں۔
اس میں دیکھنا یہ بھی تھا کہ ورزش کے دوران دماغی کیفیت اور ڈپریشن کس طرح تبدیل ہوتا ہے اور وہ کس طرح اپنی اس منفی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔
سائیکل پر ورزش کرنے والے افراد نے جب اپنی ورزش ختم کی تو ان کا موڈ اگلے 75 منٹ تک بھی بہت اچھا رہا اور ڈپریشن دور رہی۔ لیکن جن افراد نے سائیکلنگ کی بجائے صرف آرام کیا تھا ان کی ڈپریشن میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی۔
لیکن سب سے حیرت انگیز دماغی صلاحیت پر ہوا۔ ورزش کرنے والوں کا اسٹروپ ٹیسٹ بہتر آیا اور اس کا اثر 25 سے 50 منٹ تک برقرار رہا۔ اب جنہوں نے کوئی ورزش نہیں کی ان پر کوئی مثبت دماغی اثر نہیں دیکھا گیا۔
شرکا نے بتایا کہ ورزش کے بعد ان کی طبعیت ہلکی ہوگئی اور موڈ بہت خوشگوار بھی دیکھا گیا تھا۔ بعض افراد نے کہا کہ انہیں ایک گھںٹے تک یوں محسوس ہوا کہ ورزش سے دماغ پر چھائے گہرے سیاہ بادل بھی چھٹ گئے ہیں۔
یہ تحقیق سائیکولوجی آف اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز میں شائع ہوئی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہفتہ بھر میں ایک گھنٹے کی ورزش بھی ڈپریشن دور کرنے میں بہت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

انسانی پھیپھڑوں میں بھی مائیکرو پلاسٹک کا انکشاف

12345-150.jpg

لندن(ویب ڈیسک) برطانوی سائنسدانوں نے انسانی پھیپھڑوں میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ٹکڑے یعنی مائیکرو پلاسٹک بھی دریافت کیے ہیں جو ایک تشویشناک انکشاف ہے۔
واضح رہے کہ پلاسٹک کے جن ٹکڑوں کا سائز 0.1 ملی میٹر (100 مائیکرومیٹر) یا اس سے کم ہوتا ہے انہیں مائیکرو پلاسٹک جبکہ ان سے بھی مختصر، 0.0001 ملی میٹر (100 نینومیٹر) جسامت والے پلاسٹک کے ٹکڑوں کو نینو پلاسٹک کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔
اب تک کی تحقیق سے انسانی خون، پھیپھڑوں، جگر، تلی اور گردوں میں مائیکرو پلاسٹک کے ٹکڑے دریافت ہوچکے ہیں۔
یونیورسٹی آف ہل، برطانیہ کی تازہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس کے نتائج ریسرچ جرنل سائنس آف دی ٹوٹل اینوائرونمنٹ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔
اس تحقیق کیلیے زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں سے بافتوں (ٹشوز) کے 13 نمونے لیے گئے اور ان سب میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔
یہی نہیں بلکہ پھیپھڑوں میں 12 اقسام کے پلاسٹک کی موجودگی کا پتا چلا، جس میں سے 11 اقسام کا پلاسٹک وہ تھا کہ جسے عموما پیکیجنگ، بوتلوں اور ملبوسات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
مردوں کے پھیپھڑوں میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار، خواتین کے پھیپھڑوں کی نسبت زیادہ دیکھی گئی۔
لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ معلوم ہوئی کہ مائیکرو پلاسٹک کی نصف سے زیادہ مقدار، پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں جمع تھی۔

خبردار! ویاگرا کا زیادہ استعمال آپ کو اندھا کرسکتا ہے

123-8.png

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مردانہ قوت بڑھانے والی ادویہ ویاگرا اور سیالس کا بے تحاشا استعمال بصارت میں کمی اورآخرکار اندھے پن کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
قبل ازیں تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ ویاگرا کے بینائی کیلیے خطرات معمولی ہوسکتے ہیں، لیکن نئی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خطرے کا درست ادراک نہیں کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ماہرین نے کہا ہے کہ نیلی مردانہ گولی یعنی ویاگرا پر بطورِ خاص وارننگ لکھنے کی بھی ضرورت ہے۔
ویاگرا ہویا سیالس، دونوں ہی ایک مشہور اینزائم (خامرہ) پی ڈی ای فائیو کو روکتی ہیں جو خون کی نالیوں میں پایا جاتا ہے۔ دوائیں انہیں پھیلاتی ہیں اور خون کی روانی بڑھاتی ہیں۔ اس سے جسم کے مختلف اعضا بالخصوص مردانہ عضو میں خون کی روانی بڑھ جاتی ہے اور ایستادگی قائم رہتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوائیں ہائی بلڈ پریشرمیں بھی مفید ثابت ہوئی ہیں۔
2005 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کہا تھا کہ ویاگرا، لیووٹرا اور سیالس پر خبردار کرنے والے جملے لکھے جائیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ان کی دوا ایک کیفیت اسکیئمک آپٹک نیوروپیتھی (آئی او این) کی وجہ بنتی ہے جو بینائی کو شدید متاثرکرسکتی ہے۔
جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) میں شائع، تازہ مطالعے میں کل دو لاکھ مردوں کا جائزہ لیا گیا ہے جو ویاگرا، سیالس، اسٹینڈرا اور لے وٹرا جیسی ادویہ برسوں سے استعمال کررہے تھے۔ لیکن ان میں عمومی بصارت کی خرابی کا کوئی معاملہ نہ تھا۔ تاہم جب ان افراد کا موازنہ ان کے ہم عمر لیکن یہ دوا استعمال نہ کرنے والوں سے کیا گیا تو ان میں ریٹینا کے نکلنے (ایس آر ڈی) اور ریٹینل ویسکیولر اکلشن (آر وی او) کا خطرہ بڑھا ہوا پایا گیا۔ جب اس میں ہائی بلڈ پریشر کی کیفیت کو ملایا گیا تو یہ خطرہ مزید بڑھا ہوا دیکھا گیا۔
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ عضو تناسل کو ایستادہ رکھنے والی ادویہ سے آر او وی اور ایس آرڈی جیسی کیفیات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یعنی دیگر کے مقابلے میں ویاگرا کھانے والے افراد میں ایس آرڈی کا خطرہ ڈھائی گنا اور ایس آر ڈی کا خدشہ ڈیڑھ گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح یہ دوائیں مجموعی طور پر بصارت کو 85 فیصد زائد خطرہ پہنچاسکتی ہیں۔
ابھی بہت سی تحقیق باقی ہے لیکن خیال ہے کہ یہ ادویہ آنکھوں کی نازک رگوں میں خون کے بہا میں کمی بیشی کی وجہ بن سکتی ہیں۔ یہ کیفیت کئی برسوں تک برقرار رہنے سے آنکھوں کے وہ امراض لاحق ہوسکتے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
اگرچہ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ویاگرا جیسی ادویہ سے آنکھوں کے متاثر ہونے کا خدشہ اب بھی بہت کم ہے لیکن جب دنیا میں لاکھوں کروڑوں مرد اسے استعمال کررہے ہیں تو اس پر وارننگ لازمی دینا ہوگی۔ ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی ایس آر ڈی اور آر او وی کے شکار ہوں اور دواں سے یہ کیفیت مزید خراب بھی ہوسکتی ہے۔
انہوں نے ویاگرا کھانے والے مردوں سے بھی کہا ہے کہ اگر وہ اپنی بینائی میں خرابی محسوس کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ ایک کیفیت ریٹینا ڈی ٹیچمنٹ بہت ہی خطرناک ہوسکتی ہے جس سے بصارت ضائع بھی ہوسکتی ہے۔

Top