سرجری کے بغیر، لیزر شعاع سے موٹاپے کا نیا علاج دریافت

123-7.png

جنوبی کوریا(ویب ڈیسک) موٹاپا جتنی دیر میں پر پھیلاتا ہے تو اسے ختم ہونے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ اب کسی سرجری اور تکلیف دہ عمل کے بغیر لیزر کی بدولت موٹاپے میں کمی کی جاسکتی ہے اور اس کے ابتدائی تجربات حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں۔
اب ایک نئے عارضی پیوند (امپلانٹ) کی بدولت معدے میں بھوک لگانے اور اسے بار بار جگانے والے خلیات کو دبایا یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گریلن نامی ایک ہارمون بھوک بڑھاتا ہے، کھانے میں رغبت دلاتا ہے اور بدن میں چربی جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ہارمون، دماغ، لبلبیاور چھوٹی آنت سے بھی خارج ہوتا ہے لیکن معدے کا اوپری حصہ اس ہارمون کی سب سے زائد مقدار خارج کرتا رہتا ہے۔
اسی بنا پرکوریا کی کیتھولک یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے خلیات سے گریلن کی پیداوار روکنے کے لیے ایک آلہ بنایا ہے۔ اسے انٹراگیسٹرک سیٹیٹی انڈیوسنگ ڈیوائس (آئی ایس ڈی) کا نام دیا گیا ہے۔ کسی سرجری کے بغیر ایک اسٹینٹ کی بدولت اسے معدے کے اوپری حصے ایسوفیگس تک پہنچایا جاتا ہے۔
اسٹینٹ کو فائبرآپٹک لیزر کی بدولت پیٹ میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے اوپر ایف ڈی اے سے منظور شدہ ایک دوا، میتھائلن بلو لگائی گئی ہے۔ جیسے ہی لیزر کی روشنی میتھائلن پر پڑتی ہے تو آکسیجن کی ایک خاص قسم سنگلٹ آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ یہ آکسیجن اطراف کے ان خلیات کو تباہ کرتی ہے جو گریلن پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد تار کو اسٹینٹ سمیت واپس کھینچ لیا جاتا ہے۔
پہلے مرحلے میں یہ طریقہ نوعمر خنزیروں پر آزمایا گیا ہے۔ صرف ایک ہفتے میں ان جانوروں میں گریلن کی سطح کم ہوگئی اور وزن بھی کم ہونا شروع ہوا۔ جن خنزیروں پر یہ عمل نہیں کیا گیا ان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ایک مرتبہ لیزر تھراپی کا اثر کئی ہفتوں تک قائم رہا۔ تاہم اب بھی یہ طریقہ انسانی آزمائش سے دور ہے لیکن ابتدائی تجربات بہت ہی امید افزا ہیں۔

سگریٹ نوشی ترک کرنے پر دل کے مریض مزید 5 سال زندہ رہ سکتے ہیں، تحقیق

12345-119.jpg

ماہرین کی جانب سے ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑ دینے سے دل کی بیماری میں مبتلا افراد کی زندگی میں پانچ سال کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ تحقیق جمعرات کو یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی 2022 کی سائنسی کانگریس کے دوران پیش کی گئی۔
محققین نے میٹنگ کے دوران ایک پریزنٹیشن میں کہا کہ یہ تحقیق ان فوائد سے قابلِ موازنہ ہے جو کم کثافت لیپو پروٹین (LDL) کی ادویات لینے سے ان مریضوں کو حاصل ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 45 سال یا اس سے زائد عمر کے بالغ افراد جو دل کا دورہ پڑنے، اسٹینٹ لگانے یا بائی پاس سرجری کروانے کے کم از کم چھ ماہ بعد بھی سگریٹ نوشی کر رہے ہوتے ہیں، اگر وہ یہ عادت ترک کردیں ان کی عمر میں 5 سال کا اضافہ ممکن ہے۔
دریں اثنا، محققین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے کے لیے تیار کی گئی ادویات معہ اضافی اینٹی سوزش دوا لی جائیں تو مریض کے ایامِ زندگی کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔

صرف پانچ منٹ سانس کی مشق، ورزش کی صلاحیت بڑھاتی ہے

123-6.png

لندن(ویب ڈیسک)ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا کہ ورزش سے قبل سانس کی عام مشقوں سے ورزش کرنے میں خاص قوت حاصل ہوتی ہے خواہ آپ بوڑھے ہوں یا درمیانی مدت ہی تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں۔
اگرچہ ماہرین سانس کی مشقوں پر ایک عرصے سے غور کررہے ہیں لیکن اب ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ سانس کی مشقیں روزانہ کی بنیاد پر جسمانی استحالے (میٹابولزم) کو بہتر بناتی ہے اور اس سے طرزِ زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک اہم طریقہ تنفس کا وہ عم؛ ہے جسے، ہائی رزسٹنس انسپائریٹری مسل اسٹرینتھ ٹریننگ (آئی ایم ایس ٹی) کا نام دیا گیا ۔ یہ تکنیک 80 کے دہائی میں سانس کے مریضوں کے لیے پیش کی گئی جس کے بہت سیفوائد سامنیآئے تھے۔ اس میں ایک دستی آلے سے سانس کھینچا جاتا ہے جبکہ آلہ اس میں مزاحمت پیدا کرتا ہے اور یوں سانس کھینچنے کے لیے غیرمعمولی قوت لگانی پڑتی ہے۔ اس سے ڈایافرام اور سانس لینے کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔
روایتی طور پر آئی ایم ایس ٹی کی مشق نصف گھنٹے کی جاتی ہے لیکن سائنسدانوں کیمطابق صرف پانچ منٹ مشق سے بھی بہت اچھے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اگر اس آلے سے تنفس کی مشق کا معمول بنایا جائے تو بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو قوت بھی ملتی ہے۔ یہاں تک کہ ورزش چھوڑنے کے طویل عرصے تک اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
دوسرے تجربے میں سائنسدانوں نے 50 برس سے زائد عمر کے 35 افراد کو بھرتی کیا۔ ان کے دو گروہوں کو یا تو ہائی رزسٹنس ٹریننگ گروپ میں رکھا یا پھر لو رزسٹنس گروہ میں شامل کیا گیا۔ دونوں گروپ کو روزانہ پانچ منٹ تک ورزش کرائی گئی اور یہ سلسلہ چھ ہفتوں تک جاری رکھا گیا۔
جن افراد نے ہائی رزسٹنس سانس کی مشق کی تھی جب انہیں دوڑنے والے بیلٹ (ٹریڈمِل) پر بھگایا گیا تو ان کی صلاحیت دوسروں سے 12 فیصد بہتر دیکھی گئی۔ دوسری جانب آئی ایم ایس ٹی آلے سے جسم میں 18 مختلف میٹابولائٹس دیکھے گئے جو بدن کی توانائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس طرح آئی ایم ایس ٹی پر روزانہ پانچ منٹ کی مشق بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس سے جو توانائی ملتی ہے وہ آپ کو ورزش میں قوت فراہم کرتی ہے۔

الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے، تحقیق

12345-94.jpg

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک)امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر بالاصوتی (الٹراسانڈ) لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔
ریسرچ جرنل نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ کے تازہ شمارے میں مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراسانڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی۔ یہ تجربات چوہوں، چوہیاں اور سروں پر انجام دیئے گئے۔
جگر کے ایک حصے پورٹا ہیپاٹس میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس کہا جاتا ہے۔
یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزا کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔
اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھا رونما ہوتے ہیں۔
البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔
انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کیلیے مرکوز الٹراسانڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی۔
حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔
مختصر دورانیے کیلیے وقفے وقفے سے مرکوز الٹراسانڈ لہریں ڈالنے کے باعث جگر کے ان مخصوص خلیوں میں جو تحریک پیدا ہوئی، اس سے جانوروں کے خون میں شکر (بلڈ شوگر) اور انسولین کی مقدار کم ہوئی۔
کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کیلیے اجازت کے منتظر ہیں۔
اگر انسانی تجربات میں بھی یہ تکنیک اتنی ہی کارآمد اور مفید ثابت ہوئی تو امید ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ذیابیطس کا ایک نیا، بہتر، مثر اور کم خرچ علاج ہمارے پاس ہوگا جس کیلیے کسی آپریشن کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

بلیو بیری کے اجزا دیرینہ زخم مندمل کرنے میں مددگار ثابت

12345-63.jpg

واشنگٹن(ویب ڈیسک) چند روز قبل خبر آئی تھی کہ بلیو بیری کھانے سے دماغ اور حافظہ بہترین رہتا ہے۔ اب ایک اور تحقیق سے یہ ننھا میٹھا پھل سپرفوڈ بن گیا ہے کہ اس سے ذیابیطس اور دیگر کیفیات کے زخم اور ناسور تیزی سے ٹھیک ہوسکتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ زخم بھرنے کے لیے عین اس جگہ خون کی رگوں کا بننا اور سرگرمی بہت ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ خون دیگر اہم اجزا کو وہاں تک لاتا ہے اور کھال اور بافتیں بنتی ہیں ۔ اس عمل کو ویسکیولرائزیشن کہا جاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے پیر اور دیگر مقامات کے زخم اس وجہ سے ٹھیک نہیں ہوتے کہ خون کی نالیاں بننے کا عمل بہت سست ہوجاتا ہے۔ زخم ناسور میں ڈھل جاتا ہے اور بعض مرتبہ انفیکشن پھیلنے سے ہاتھ پیر کاٹنے کی نوبت پیش آتی ہے جو شمع حیات بھی بجھاسکتی ہے۔
بلیوبیری میں فینول نامی اینٹی آکسیڈنٹ اس ضمن میں جادوئی اثر رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف مین نے ان کی آزمائش کی ہے اور دیکھا کہ فینول نامی مرکب زخموں پر خون کی رگیں بننے لگیں اور وہاں خلیات جمع ہوئے، جن کی بارک تہیں بنیں جو آخر کار کھال میں ڈھل گئیں۔ یہ تجربات انسانی آنول نال کے خلیات پر کئے گئے تھے۔
اس کے بعد یونیورسٹی آف مین کی پروفیسر ڈورتھی اور ان کے شریک سائنسدانوں نے ایک طرح کا جل والا مرہم بنایا جس میں بلیوبیری کے فینول ملائے گئے تھے۔ پھر انہیں چوہوں کے گہرے زخموں پر آزمایا گیا۔ اس طرح مرہم کے استعمال کے 6 دن کے اندر ہی اینڈوتھیلیئل خلیات یعنی باریک کھال بننے کا عمل شروع ہوگیا اور دیگر کے مقابلے میں زخم 12 فیصد تک تیزی سے بھرنے لگا۔ اس کے علاوہ خون کی باریک نالیاں بھی نمودار ہونے لگیں۔
اس طرح ثابت ہوا کہ جنگلی بلیوبیریوں میں موجود کیمیکلز بہت ہی مثر انداز میں زخموں کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ طریقہ جلنے کے گہرے زخم، پریشر السر اور ذیابیطس کے ناسوروں کو یکساں تیزی سے مندمل کرسکتا ہے۔ تاہم اگلے مرحلے پر اسے انسانوں پرآزمایا جائے گا۔

ادھیڑعمری میں زیادہ پانی پینے سے بڑھاپے میں دل توانا رہتا ہے، تحقیق

123-5.png

بیتھیسڈا(ویب ڈیسک) یورپی ماہرین نے کہا ہے کہ اگرآپ اپنے قلب کو تندرست اور توانا رکھنا چاہتے ہیں تو پانی کی وافر مقدار کی عادت اپنائیں جو عمر بھر دل کو بہترین حالت میں رکھ سکتی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور دیگر یورپی ممالک کے ماہرین نے ایک تحقیق کے بعد کہا ہے کہ بالخصوص ہارٹ فیل کی کیفیت سے بچنا ہے تو پانی کے زائد استعمال کو اپنی عادت میں شامل کرلیں۔ اس کیفیت دل بتدریج کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ہارٹ فیل میں دل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہونے لگتے ہیں۔
یورپی ہارٹ جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق پوری زندگی مائعات بالخصوص پانی کا وافر استعمال مستقبل میں امراضِ قلب سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے قبل نمک کی کم مقدار کو بھی اسی زمرے میں شامل کیا گیا تھا لیکن اب امریکہ میں نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹس (این آئی ایچ) کی ماہرِ قلب نتالیا دمیتری وا نے اپنی تحقیق میں پانی کی کمی بیشی اور قبل کے پٹھوں (مسلز) کی سختی کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے۔
انہوںنے 45 سے 66 سال کے 15000 مردوزن کا جائزہ لیا ہے جو 1987 سے 89 تک شریانوں کی سختی یعنی آرتھیوسکلیروسس کے خطرے سے دوچار افراد کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ اس کے بعد اگلے 25 برس تک ان میں ہسپتال جانے اور طبی امداد کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
اس مطالعے میں تمام شرکا میں پانی پینے کی عادت کو بطورِ خاص شامل کیا گیا تھا۔ شروع میں کسی بھی فرد میں ذیابیطس، موٹاپے اور ہارٹ فیلیئر سمیت امراضِ قلب کے آثار نہ تھے۔ آگے چل کر کل 1366 یعنی 11 فیصد افراد دل کے کسی نہ کسی مرض میں گرفتار ہوگئے تھے۔
ایک جانب سے شرکا سے پانی پینے کے متعلق پوچھا گیا تو دوسری جانب جسم میں سیرم سوڈیئم کی پیمائش کی گئی کیونکہ پانی کم پینے سے جسم میں سوڈیئم کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور امراضِ قلب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جن میں ہارٹ فیل ہونا اور دل ک پٹھوں کے موٹا اور پتلا ہونے کے امراض شامل ہیں۔
معلوم ہوا کہ جن افراد میں درمیانی عمر میں سیرم سوڈیئم کی مقدار 135 تا 146 ملی ایکوی ویلنٹس فی لیٹر کی نارمل حد سے کم تھی ان میں دل کے امراض کا خطرہ بتدریج اتنا ہی زیادہ دیکھا گیا یعنی ایک فیصد سیرم سوڈیئم بڑھنے سے ہارٹ فیل کا خطرہ 5 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
پھر 70 سے 90 برس کے 5000 افراد کا بطورِ خاص مطالعہ کیا گیا تو درمیانی عمر میں اگر ان میں ملی ایکوی ویلنٹس فی لیٹر کی شرح 142.5 سے 143 تک رہی تو ان میں بائی وینٹریکل کی خرابی یا ہائپرٹروفی کا خطرہ 62 فیصد تک بڑھا ہوا دیکھا گیا۔ یہ تمام کیفیات دل کو کو کمزور کرتی ہے اور تندرست شخص کو ہارٹ فیل ہونے کی جانب دھکیلتی ہیں۔
اسی بنا پر ماہرین نے زور دے کر کہا ہے کہ اگرآپ امراضِ قلب اور بالخصوص ہارٹ فیل سے بچنا چاہتے ہیں تو 40 سال عمر کے بعد سے ہی پانی کی مقدار بڑھادیں تاکہ اگلے عشروں تک آپ کا دل توانا رہ سکے۔

کیا الائچی سے چھاتی کا سرطان ختم کیا جاسکتا ہے؟

123456-36.jpg

فلاڈیلفیا(ویب ڈیسک) الائچی کا استعمال صدیوں سے مشرقی کھانوں کے علاوہ دواں میں بھی کیا جارہا ہے۔ اب امریکا میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ الائچی کے جزوِ خاص سے چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) ختم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
یہ جزو کارڈیمونن (Cardamonin) کہلاتا ہے جو الائچی کے علاوہ بھی کئی پودوں میں پایا جاتا ہے، البتہ الائچی میں اس کی مقدار قدرے زیادہ ہوتی ہے۔
کارڈیمونن پر یہ تحقیق فلوریڈا اے اینڈ ایم یونیورسٹی، ٹالاہاسی میں اسسٹنٹ پروفیسر پیٹریشیا مینڈونسا اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جس میں بالترتیب افریقی اور یورپی نسلوں سے تعلق رکھنے والی امریکی خواتین سے چھاتی کے خلیات لیے گئے تھے۔
تحقیق کے دوران کارڈیمونن کو چھاتی کے سرطان کی ایک خطرناک قسم ٹرپل نیگیٹیو کے خلاف آزمایا گیا۔ چھاتی کا یہ سرطان پی ڈی ایل 1 (PD-L1) کہلانے والے ایک جین میں ضرورت سے زیادہ سرگرمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کارڈیمونن کے استعمال سے ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر کے پھیلا میں کمی واقع ہوئی۔
البتہ، کارڈیمونن کی بدولت PD-L1 جین کی سرگرمی صرف یورپی نسل کی خواتین ہی میں کم ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارڈیمونن کے اثرات مختلف نسلوں پر الگ طرح سے مرتب ہوتے ہیں۔
مذکورہ تحقیق کی تفصیلات فلاڈیلفیا میں منعقدہ ایکسپیریمنٹل بائیالوجی 2022 کانفرنس میں گزشتہ روز پیش کی گئی ہیں۔
اسی کے ساتھ پیٹریشیا مینڈونسا نے خبردار کیا ہے کہ ابھی یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے لہذا کینسر کے علاج میں الائچی کے استعمال کا کردار حتمی اور فیصلہ کن ہر گز نہ سمجھا جائے۔

گٹھیا کی عام دوا گنج پن کےعلاج میں مؤثر ثابت

123-4.png

نیویارک(ویب ڈیسک) گٹھیا اور جوڑوں کے درد کی ایک عام دوا کو جب گنج پن کی ایک قسم کے شکار مریضوں پرآزمایا گیا تو دو تہائی افراد کو اس کا فائدہ ہوا ہے۔
بیری سیٹی نِب ایک عام دوا ہے جسے جوڑوں کے درد کے مریض استعمال کرتے ہیں۔ اس دوا کی ایک اور تاثیر سامنے آئی ہے کہ یہ ایک طرح کے آٹو امیون مرض ایلوپیشیا آریاٹا کا علاج کرسکتی ہے جس میں جگہ جگہ بالوں کے درمیان گنج پن پیدا ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایلوپیشیا میں جسم کا اپنا مدافعتی نظام ہی اس بیماری کو پیدا کرتا ہے۔
صرف امریکا میں ہی ہر سال دو لاکھ سے زائد افراد ایلوپیشیا کے شکار ہوتے ہیں اور بھرے بالوں سے جگہ جگہ ان کے سر کے بال اڑنے لگتے ہیں۔ اس کیعلاوہ بھنووں اور پلکوں کے بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اب تک اس کی کوئی مثر دوا سامنے نہیں آسکی ہے۔
واضح رہے کہ خود جوڑوں کا درد (آرتھرائٹس) بھی آٹوامیون مرض کی ایک قسم ہے۔ ایک تجربے میں ییل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے درجنوں افراد کو بھرتی کیا جو گنج پن کے شکار تھا۔ انہیں تین گروہوں میں تقسیم کرکے ایک کو چار ملی گرام ، دوسرے گروپ کو دو ملی گرام اور تیسرے گروہ کو محض ایک فرضی دوا کھلائی گئ۔ یہ آزمائش 36 ہفتوں تک جاری رہی۔
تجربات کے بعد ڈاکٹر بریٹ کنگ نے بتایا کہ بیری سیٹی نِب گنج پن کے علاج میں بہت مثر ثابت ہوئی ہے۔ دوا کی افادیت کے بعد تجربے میں شریک کء افراد میں بالوں کی افزائش بہتر ہوئی اور ایلوپیشیا مرض کا زور ٹوٹا۔
اگلے مرحلے میں اسے مزید مریضوں پر آزمایا جائے گا۔

خواتین میں اینٹی بایوٹکس کا رحجان دماغ کیلیے مضر قرار

123-3.png

ہارورڈ(ویب ڈیسک) ایک تحقیق کے بعد بالخصوص خواتین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ ان کی عمر 50 کے عشرے میں ہیں اور وہ وسط عمر میں ہیں تو اینٹی بایوٹکس سے اجتناب کریں ورنہ آگے چل کر ان کی دماغی صلاحیت میں کمی ہوسکتی ہے اور وہ الزائیمر کی شکار بھی ہوسکتی ہیں۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول اور رش میڈیکل کالج نے ایک تحقیق کے بعد کہا ہے کہ 50 کے عشرے کی عمر والی خواتین اس دوران اگر دوماہ تک بھی اینٹی بایوٹکس کھائیں تو سات برس بعد دیگر خواتین کے مقابلے میں ان کے معیاری اکتسابی ٹیسٹ میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق میں ماہرین نے دیگر اہم عوامل کو بھی سامنے رکھا ہے۔
اس ضمن میں 1989 میں 25 سے 42 سال کی 116,430 خواتین نرسوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ تمام خواتین سے ہر سال دو سوالنامے بھروائے گئے تھے۔ ان سے غذا، نیند، ورزش، امراض اور اینٹی بایوٹکس کے استعمال پر سوالات کئے گئے تھے۔ پھر 2009 میں خواتین کی اوسط عمر 57 ہوئی تو ان سے اینٹی بایوٹکس کے استعمال پر سوالات پوچھے گئے۔ اس میں اگلے چار برس تک سات درجوں کی اینٹی بایوٹکس ادویہ کے استعمال کا پوچھا گیا۔
ان میں سے اینٹی بایوٹکس کھانے والے خواتین کو سات برس بعد اکتساب اور دماغ کے کئی معیاراتی (اسٹینڈرڈ) ٹیسٹ سے گزارہ گیا۔ ان میں شارٹ ٹرم میموری، وژول لرننگ، توجہ ، پروسیسنگ اسپیڈ اور دیگر ٹیسٹ شامل تھے۔ ٹیسٹ کے وقت خواتین کی اوسط عمر 61 برس تھی۔
معلوم ہوا کہ جن خواتین نے صرف دو ماہ تک ایںٹی بایوٹکس کھائی ان کے جسم کے مقابلے میں دماغ 3 سے 4 برس زیادہ بوڑھا دیکھا گیا۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ جن خواتین نے وسط عمر ( مڈل ایج) میں اینٹی بایوٹکس کا زیادہ استعمال کیا ان میں الزائیمر کا خطرہ بھی بڑھا ہوا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں معدے اور دماغ کا گہرا تعلق ہے کیونکہ اینٹی بایوٹکس پہلے نظامِ ہاضمہ میں جرثوموں کو بدلتی ہیں جس کا آگے چل کر اثر دماغ اور ذہنی صلاحیت پر پڑتا ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق شائع ہوچکی ہے لیکن سائنسدانوں نے اس پر مزید تحقیق پر زوردیا ہے۔

موبائل فون کے استعمال سے دماغ میں رسولی نہیں ہوتی، تحقیق

12345-35.jpg

آکسفورڈ(ویب ڈیسک) برطانیہ میں 20 سال سے جاری ایک وسیع تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موبائل فون کے استعمال اور دماغ میں رسولی (ٹیومر) بننے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
بتاتے چلیں کہ انٹرنیٹ پر بالعموم اور سوشل میڈیا پر بالخصوص پچھلے کئی سال سے ایسی معلومات گردش میں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون کے استعمال سے دماغ میں رسولی بن سکتی ہے اور دماغ کا کینسر بھی ہوسکتا ہے۔
ان معلومات کی صداقت جاننے کیلیے اب تک مختلف تحقیقات ہوچکی ہیں جن کے نتائج بہت مبہم ہیں۔
اس بارے میں امریکی حکومت کے نیشنل ٹاکسی کولوجی پروگرام (NTP) کی ایک تحقیق سے موبائل فون سے خارج ہونے والی شعاعوں سے جانوروں میں کینسر کی کچھ شہادتیں ضرور سامنے آئی تھیں لیکن تکنیکی بنیادوں پر وہ تحقیق بہت کمزور اور متنازع رہی۔
اب اسی تسلسل میں انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک مشترکہ تحقیق کی ہے جس میں 7 لاکھ 76 ہزار سے زیادہ برطانوی خواتین میں موبائل فون کے استعمال اور دماغی رسولیوں سے متعلق 20 سالہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تجزیئے کی غرض سے موبائل فون کے دو پہلوں کو مدنظر رکھا گیا۔ پہلا: پورے ہفتے میں کم از کم 20 منٹ تک موبائل پر بات چیت؛ اور دوسرا: کم از کم دس سال تک موبائل فون کا استعمال۔
تفصیلی اور محتاط تجزیئے کے بعد بھی دماغی رسولیوں اور موبائل فون سے نکلنے والی برقی مقناطیسی شعاعوں (الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن) کے درمیان کوئی تعلق سامنے نہیں آسکا۔
نوٹ: یہ تحقیق اور اس سے حاصل شدہ نتائج کی مکمل تفصیلات جرنل آف دی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

Top