اے آئی پروگرام کا خود سے تیارکردہ پروٹین، مضر بیکٹیریا کو تباہ کرنے لگا!

123-903.jpg

سان ہوزے، کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت کی مدد سے پہلی مرتبہ ایک مفید پروٹین بنانے کو کہا گیا جو خطرناک بیکٹیریا کو تباہ کرسکے ۔ اس طرح سافٹویئر سے ڈیزائن کردہ پروٹین تجربہ گاہ میں بناکر جب اسے آزمایا گیا تو اس نے کئی بیکٹیریا کو کامیابی سے تباہ کردیا۔

یہ کام ڈاکٹر علی مدنی کی نگرانی میں ہوا ہے جنہوں نے امریکہ سے پی ایچ ڈی کے بعد ’پروفلوئنٹ‘ نامی بایوٹیکنالوجی کمپنی قائم کی ہے۔ انہوں نے آرٹفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے ایک دونہیں بلکہ لاکھوں نئے پروٹین بنائے ہیں اور یہ بالکل بنیاد سے ڈیزائن کئے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ پروٹین کے خواص دیکھتے ہوئے انہوں نے اسے تیار کرکے حقیقی ماحول میں آزمایا۔
واضح رہے کہ متن (ٹیکسٹ) لکھنے والا ایک اے آئی پروگرام ’پروجین‘ ہے جو عین پروٹین والے سافٹ ویئر کی طرح کام کرتا ہے۔ کیونکہ یہ پروگرام امائنوایسڈ کی ترتیب کے لحاظ سے نِت نئے پروٹین بناتا ہے اور میں دوکروڑ سے زائد پروٹین کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔ تاہم ماہرین نے سافٹ ویئر کو ہدایات دیں کہ وہ فی الحال ایسے پروٹین بناکر دے جو بیکٹیریا کو تلف کرسکیں۔
پھر اگلے مرحلے پر حقیقی خلیات کے ہوبہو سالمات ڈیزائن کئے۔ پہلے مرحلے پر 100 سالمات (مالیکیول) کو تجربہ گاہ میں حقیقی طور پر بنایا گیا۔ ان میں سے 66 سالمات نے کیمیائی ردِ عمل (ری ایکشن) میں اہم کردار ادا کیا جو تھوک اور انڈے کے سفیدی کے بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس سے امید پیدا ہوئی کہ شاید اب یہ اصل تے وڈے بیکٹیریا کو بھی مارسکیں گے۔
پھر ماہرین نے پانچ پروٹین تیار کئے جو زبردست سرگرم تھے اورانہیں مشہور اور خطرناک بیکٹیریا ’ای کولائی‘ کے سامنے رکھا گیا تو وہ ان میں سے دو پروٹین نے نے اسے تلف کردیا۔
اس کے بعد سائنسدانوں نے تمام سالمات کے ایکسرے لیے تو معلوم ہوا کہ حقیقی دنیا کے پروٹین کے مقابلے میں ان کے امائنوایسڈ 30 فیصد مختلف تھے لیکن ظاہری شکل یکساں تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عین اسی طریقے سے ادویہ کے لیے سالمات بھی بنائے جاسکتے ہیں لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف معالجاتی پروٹین ڈیزائن کرسکتی ہے بلکہ یہ ادویہ سازی کی سہولت بھی فراہم کرے گی، تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں میں شکر کی بار بار کمی بینائی کیلیے خطرناک قرار

123-871.jpg

یویارک: اگرچہ ذیابیطس کے مریضوں کو بینائی میں کمی کا خطرہ لاحق رہتا ہے لیکن جن مریضوں کی شکر بار بار اچانک کم ہوجاتی ہے ان کی آنکھوں کو قدرے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔

اس طرح خون میں بار بار شکر کی کمی سے ذیابیطس سے وابستہ بینائی کے مسائل بھی پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے بتایا کہ جیسے ہی مریضوں کی شوگر کم ہوتی ہے آنکھ سے وابستہ خلیات میں آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے اور اس طرح کئی بار یہ عمل رونما ہوتا رہتا ہے اور بصارت کم ہوسکتی ہے۔
اس تحقیق میں انسان اور چوہوں کے آنکھ کے خلیات مع ریٹینا تجربہ گاہی ماحول میں کچھ اسطرح فروغ دیئے گئے ہیں کہ ان میں اچانک شکر کی کمی کی گئی اور اس کے اثرات نوٹ کیے گئے۔ یہ تحقیق سیل رپورٹس نامی تحقیقی جریدے کی تازہ اشاعت میں چھپی ہے۔
جامعہ سے وابستہ سائنسداں اکریت سودھی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اگر انسولین لینے والے ذیابیطس کے مریضوں میں دن میں دو مرتبہ شکر کی مقدار معمول سے کم ہوجائے تو ان کی آنکھیں مزید متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان کے مطابق انسولین نہ لینے والے ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اس کیفیت کا سامنا ہوسکتا ہے اور یہ دورانِ نیند بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے ایک جانب تو آنکھ کو آکسیجن کی فراہمی کم ہوتی ہے تو دوسری جانب ریٹینا کے خلیاتی پروٹین بڑھ جاتے ہیں اس سے خون کی رگیں موٹی ہوجاتی ہیں اور ذیابیطس سے پہلے سے ہی متاثر بینائی مزید خراب ہوسکتی ہے۔
اگرچہ اس پورے عمل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم ڈاکٹروں کے مطابق یہ تبدیلی آنکھ کے خلوی (سیلولر) اور سالماتی (مالیکیولر) سطح پر ہوتی ہے۔ پھر جی ایل یو ٹی ون نامی جین کا اظہار بڑھ جاتا ہے اور ایک قسم کا پروٹین زیادہ بننے لگتا ہے جو آکسیجن کو مزید کم کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے اس عمل کا مکمل طریقہ کار (پاتھ وے) بھی معلوم کیا ہے اور یوں اب مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

ورزش میں پٹھوں کی مضبوطی کے لیے چقندر کا رس آزمائیں

123-870.jpg

لندن: سخت ورزش اور وزن اٹھانے والے نوجوان اپنے پٹھوں کی مضبوطی اور افزائش کے لیے پروٹین یا اس کے سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں۔ اب ماہرین کا اصرار ہے کہ چقندر کا رس کسی منفی اثر کے بغیر عین یہی کردار ادا کرسکتا ہے۔

برطانیہ کی جامعہ ایکسیٹر کے سائنسدانوں کے مطابق چقندر میں کئی طرح کے نائٹریٹ پائے جاتے ہیں جو دورانِ ورزش پٹھوں کو مناسب قوت فراہم دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ نہ صرف جسمانی قوت بڑھاتے ہیں بلکہ سخت ورزش کے قابل بھی بناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چقندر کے نائٹریٹ جسم میں جاتے ہی نائٹرک آکسائیڈ میں بدل جاتے ہیں اوراب تک اس پورے عمل کو درست سمجھا ہی نہیں کیا گیا ہے۔
اس کے لیے دس رضاکاروں کو چقندر کا نائٹریٹ دیا گیا اور ان کے لعاب، خون، پٹھوں اور پیشاب میں اس کی مقدار نوٹ کی گئی۔ ان میں سے ہر ایک شخص کو ٹانگوں کی ایسی ورزش کرائی گئی جو سخت تھی اور اس کی حد کو بھی ناپا گیا۔ ماہرین نے نائٹریٹ دینے کے بعد رضاکاروں کو کئی طرح کی ورزشیں کرائیں اور ان کے پٹھوں کی قوت میں سات فیصد اضافہ نوٹ کیا۔
تحقیق میں شامل سائنسداں، اینڈی جونز نے کہا کہ سائنسی طور پر چقندر میں موجود نائٹریٹ سے پٹھوں کی مضبوطی اور کاکردگی کے درمیان اہم تعلق سامنے آگیا ہے۔ اس کے علاوہ پٹھوں میں بھی نائٹریٹ کا نفوذ بڑھا ہوا دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے چوٹ اور پٹھوں کی اینٹھن میں بھی چقندر کا رس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ذیابیطس کے سبب کینسرسے موت واقع ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

123-831.jpg

لیسٹر: ایک نئی تحقیق کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا افراد کے عام لوگوں کی نسبت مخصوص اقسام کے کینسر سے موت کے خطرات دُگنے ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کی پتے، آنتوں یا جگر کے سرطان سے موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر ذیابیطس میں مبتلا افراد کی کینسر سے موت واقع ہونے کے امکانات 18 فی صد تک بڑھ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ خواتین جو ذیابیطس میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی موت اینڈومیٹریل کینسر سے واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا تھا کہ کینسر کے خطرے کو بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیئے جتنی ذیابیطس سے پیش آنے والی دیگر پیچیدگیوں، جیسے کہ قلبی مرض، کو دی جاتی ہے۔
ہوپ اگینسٹ کینسر نامی خیراتی ادارے کی مالی اعانت سے کیے جانے والے مطالعے میں یہ معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا خواتین کی چھاتی کے سرطان سے موت واقع ہونے کے خطرات 9 فی صد زیادہ تھے اور ان خطرات میں اضافہ سامنے آرہاتھا۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے معائنے کا دائرہ وسیع کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے(جو فی الحال انگلینڈ میں 50 سے 71 سال کی خواتین کا کیا جاتا ہے) تاکہ ذیابیطس میں مبتلا کم عمر خواتین کا معائنہ کیا جاسکے۔
1998 سے 2018 تک جاری رہنے والی تحقیق میں محققین کی ٹیم نے ذیابیطس میں مبتلا 1 لاکھ 37 ہزار 804 برطانوی شہریوں کے ڈیٹا کا معائنہ کیا جن کی اوسط عمر 64 برس تھی اور ان کو اوسطاً 8.4 سال تک دیکھا گیا۔معائنے کے اس دورانیے میں تحقیق میں شریک 39 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔
تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مطالعے کے دوران 55 سے 65 سال کے درمیان ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر سے ہونے والی اموات معمولی سی کم ہوئیں لیکن 75 سے 85 سال کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

بسکٹ ہمارے وزن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، تحقیق

123-830.jpg

پینسلوینیا: ایک نئی تحقیق کے مطابق بسکٹ، کیک، برگر اور ساسیج رول کھانے کی وجہ سے ہاضمے میں ہونے والی تاخیر ہمارے وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنک فوڈ ہماری بھوک کو قابو کرنے کی صلاحیت کو کم کر کے دماغ کو تبدیل کرتا ہے۔
محققین کی جانب سے چوہوں میں کیے جانے والے تجربوں میں معلوم ہوا کہ ایسٹروسائٹس نامی خلیے پیٹ کو کیمیائی اعتبار سےقابو کرتے ہیں۔ لیکن تحقیق کے مطابق چکنائی اور میٹھی غذا کی مسلسل کھپت اس نظام میں خلل ڈالتی ہے۔
امریکی ریاست پینسلوینیا میں قائم پین اسٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹر کرسٹین براؤننگ کا کہنا تھا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایسٹروسائٹس (دماغ میں موجود ستارہ نما خلیے) قلیل مدت میں کیلوری کی کھپت کو قابو کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ زیادہ چکنائی/کیلوری والی غذا کے تھوڑی دیر کے لیے تکشف ہونے سے ایسٹروسائٹس پر انتہائی اثرات مرتب ہوئے جس میں معدے کو قابو کرنے والے معمول کا اشارے کا نظام متاثر ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ایسٹروسائٹس زیادہ چکنائی والی غذا کے حوالے سے بے حس ہوجاتے ہیں۔ زیادہ چکنائی یا کیلوری والی غذا کے 10 سے 14 دن تک کھانے کے بعد ایسٹروسائٹس ردِ عمل دینے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کی کیلوری کی کھپت کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ معدے کو جانے والے اشاروں میں مخل ہوتا ہے اور ہاضمے میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔
سائنس دانوں کی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق سے انسداد موٹاپہ ادویات بننے کی راہ کھلتی ہے جو نیورونز کو نشانہ بناتی ہیں۔

سر کی چوٹ بڑوں میں موت کی شرح دُگنی کر دیتی ہے، تحقیق

123-783.jpg

پینسلوینیا: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ بڑی عمر کے وہ افراد جنہوں نے کبھی بھی معتدل یا شدید نوعیت کی چوٹ سر پر کھائی ہو ان کی موت کی شرح چوٹ نہ لگنے والوں کی نسبت دُگنی ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں قائم پیریلمن اسکول آف میڈیسن کے محققین کو 13 ہزار افراد کے ڈیٹا کا 32 سال تک جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ افراد جن کو کسی بھی قسم کی سر کی چوٹ لگی تھی ان کی موت کی شرح چوٹ نہ لگنے والوں کی نسبت 2.21 گُنا زیادہ تھی۔
تحقیق کے شرکاء کا انتخاب مِنیسوٹا، میری لینڈ، شمالی کیرولائنا اور مِسیسپی کی چار کمیونیٹیوں سے کیا گیا جن کی اوسط عمر 54 سال تھی۔جبکہ تحقیق کے شرکاء میں 57 فی صد خواتین جبکہ 28 فی صد سیاہ فام شامل تھے۔
وہ افراد جن کے سر پر شدید یا متعدد چوٹیں لگیں تھیں ان کی موت کی شرح ان افراد کی نسبت سر پر چوٹ نہ لگنے والوں کی نسبت 2.87 زیادہ تھی۔
سر کی چوٹ(جو کہ عموماً گاڑی کے تصادم سے، حادثاتی طور پر گرنے سے یا کھیل میں لگتی ہیں) کا تعلق طویل مدتی صحت کے مسائل سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ ان مسائل میں معذوری، مرگی، ڈیمینشیا اور فالج شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تحقیق کے نتائج عوامی صحت کے لائحہ عمل کی اہمیت کو واضح کرتی ہے جس سے سر کی چوٹ سے بچاؤ اور فوری طبی امداد کے ذریعے شرح مرض اور شرح اموات کو کم کیا جا سکے۔

سرد اور گرد آلود ہواؤں سے موسمی بخار؛ کراچی میں بچے اور بزرگ زیادہ متاثر

123-782.jpg

کراچی: شہر میں خشک، سرد اور گرد آلود ہوائیں چلتے ہی شہری بلخصوص بچے اور بزرگ موسمی بخار میں مبتلا ہونے لگے ہیں جس کے باعث سرکاری اور نجی اسپتالوں میں نزلا، کھانسی، نمونیا اور سانس کے امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کراچی کے اسپتالوں میں 25 فیصد مریض موسمی بخار کی شکایت کے ساتھ اسپتال آرہے ہیں جبکہ اسپتال میں 10سے 15 فیصد اضافہ ایسے مریضوں میں ہوا ہے جن کو پہلے سے سانس کا مرض یا کولڈ الرجی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ چار ہفتوں سے کراچی میں صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت کم ہوتا ہے،جس کی وجہ سے اسکول جانے والے بچے نزلا، زکام، کھانسی اور موسمی بخار میں مبتلا ہورہے ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق اسپتال میں نمونیا کے بھی معمول سے زائد کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، 6 سو سے زائد اوپی میں سے تقریباً 200 مریض موسمی بخار کی شکایت و علامات کے ساتھ اسپتال آرہے ہیں۔
ڈاکٹرز نے ہدایت کی کہ بچوں اور بزرگ گرم کپڑوں کا استعمال کریں اور خاص طور پر سروں کو ڈھک کر باہر نکالیں، گرم مشروبات کا استعمال بھی سینے کو گرم رکھنے میں مفید ثابت ہوسکتا ہے، سڑکوں پر ماسک پہننے سے سانس کے مرض میں مبتلا افراد دھول ،مٹی اور گرد آلود آب و ہوا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کام کا تناؤ ہے تو عطرِ گلاب سونگھئے

123-781.jpg

تہران: سائنسدانوں نے اروما تھراپی (معالجاتی خوشبویات) کی اہمیت پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ دفاتر اور مصروف کاروباری جگہوں پر اگر تناؤ کا سامنا ہو تو ایک سادہ نسخہ آزما کر مزاج بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے دفتر میں گلاب کے عطر کی ایک شیشی رکھنا ہوگی۔

اس ضمن میں مصروف ترین ہسپتالوں میں کام کرنے والے نرسوں کے گلے میں عطر والے لاکٹ پہنائے گئے جس سے گلاب کی خوشبو کے بخارات ان کی ناک تک پہنچ رہے تھے۔ عطر والا ہار پہننے والی نرسوں نے بتایا کہ کام کے دوران کا ذہنی تناؤ کم ہوکر صرف دسویں حصے کے برابر رہ گیا۔ عطرکو جتنا سونگھا گیا ان کا اسٹریس اتنا ہی کم ہونا شروع ہوا۔
ایران میں جامعہ سمنان برائے طبی تحقیق کے ماہرین نے سینکڑوں برس سے آزمودہ عطرِ گلاب کے انسانی تجربات کئے ہیں اور انہیں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ میں بہت بہتر پایا ہے۔ ان کے مطابق عطرِ گلاب دردِ سر، اعصابی تناؤ اور دیگر امراض میں بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ دوسری جانب خود ایران میں اعلیٰ معیار کا عطرِ گلاب بھی بنایا جاتا ہے۔
اگرچہ بعض مطالعات سے اس کے خاص فوائد نہیں ملے لیکن جامعہ سمنان کے محسن ایمادی خلف اور ان کے ساتھیوں نے ایران کے دو مصروف ترین ہسپتالوں میں 118 نرسوں اور ڈاکٹروں پر اس عطر کو آزمایا ہے۔ تمام رضاکاروں کو تین حصوں میں بانٹا گیا۔
ان میں ایک گروپ کو تلوں کا تیل، دوسرے کو لیونڈر عطر اور تیسرے گروپ کو عطرِ گلاب لگایا گیا۔ اس کے لیے ایک خاص ٹیوب میں ںصف ملی لیٹر تیل بھرکر گلے میں پہنایا گیا تاکہ اسٹاف اسے سونگھتے رہیں۔ اس کے بعد شرکا سے سوالنامے بھروائے گئے۔
جن افراد کو گلاب کا عطر دیا گیا ان کےتناؤ میں بہت کمی واقع ہوئی اور انہوں نے کام کے تلخ تجربات کے دوران بھی مسرور انداز میں کام کیا۔ یہ تحقیق سائنس اینڈ ہیلنگ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق گلاب کے عطر کے مثبت افراد دو ہفتے بعد ہی سامنے آنے لگتے ہیں۔

نوجوان چمپینزی، نوجوان انسانوں کی طرح خوب خطرہ مول لیتے ہیں

123-748.jpg

مشیگن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ صرف انسانوں میں ہی نوجوان پُرخطر نہیں ہوتے بلکہ نوجوان بندر بھی خطروں کو گلے لگانا پسند کرتے ہیں۔
امریکا کی یونیورسٹی آف مشیگن میں کی جانے والی تحقیق میں محققین کو معلوم ہوا کہ نوجوان چمپینزی بوڑھے چمپینزیوں کی نسبت زیادہ خطرہ مول لیتے ہیں۔
محققین کے مطابق تحقیق کے یہ نتائج اس خیال کا وزن مزید بڑھاتے ہیں کہ انسانوں اور بندروں کے درمیان حیاتیاتی تعلق موجود ہے، بالخصوص نوجوانی کے دور میں۔
تحقیق میں رپبلک آف کانگو کے جزوی طور پر آزاد 40 چمپینزیوں کا مطالعہ کیا گیا۔
یونیورسٹی آف مشیگن میں نفسیات اور بشریات کی پروفیسر اور تحقیق کی سربراہ مصنفہ الیگزینڈرا روساٹی کا کہنا تھا کہ نوجوان چمپینزی کسی اعتبار سے نوجوان انسانوں کی طرح نفسیات رکھتے ہیں۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ نوجوانوں کی نفسیات کے متعدد فیچر چمپینزیوں سے مشابہ ہیں۔
چمپینزیوں کی عمر 50 سال تک ہوتی ہے لہٰذا ان کی نوجوانی کا دور آٹھ سے 15 سال کے درمیان ہوتا ہے۔
جرنل آف ایکسپیریمنٹل سائیکولوجی: جنرل میں شائع کی گئی تحقیق میں انعام پر مشتمل مختلف عمر کے 21 نر اور 19 مادہ چِمپینزیوں پر ٹیسٹ کیے گئے۔

مصنوعی چکنائی کا استعمال، پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل

عالمی ادارہ صحت کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صنعتی طور پر تیارشدہ چربی یا صحت کو نقصان دینے والی چکنائی کے استعمال سے ملکی آبادی کا بڑا حصہ معرض خطر میں ہے۔

یاد رہے کہ عمومی طور پر صنعتی سطح پر تیار ہونے والی یہ چکنائی کوکنگ آئل ، بیکری مصنوعات اور ڈبہ بند خوراک میں استعمال کی جاتی ہے۔
سنہ 2018 میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے تمام ممالک کو مضرصحت ٹرانس فیٹی ایسڈ کا 2023 ء تک خاتمہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سبب یہ ہے کہ ان فیٹی ایسڈ سے دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ امراض قلب کے نتیجے میں موت کے گھاٹ اترنے والے انسانوں کی شرح سالانہ 5 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 16 میں سے 9 ممالک میں ’ ٹرانس فیٹی ایسڈ ‘ سے پیدا ہونے والے امراض قلب کے باعث اموات کی شرح زیادہ ہے۔ ان ممالک میں آسٹریلیا ، آذربائیجان، بھوٹان، ایکواڈور، مصر، ایران، نیپال، پاکستان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ یہ ممالک بہترین احتیاطی پالیسیوں پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔
اب عالمی ادارہ صحت نے ان ممالک سے بہترین احتیاطی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے فی الفور اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم 43 ممالک نے ، جن کی مجموعی آبادی 2 ارب 80کروڑ ہے، موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین احتیاطی پالیسیاں اختیار کی ہیں تاہم دنیا کا زیادہ تر حصہ اب بھی غیر محفوظ ہے۔یاد رہے کہ ٹرانس فیٹی ایسڈز کے نتیجے میں موٹاپا تیزی سے بڑھتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ ٹرانس فیٹس ایک ایسا زہریلا کیمیکل ہے جو انسان کو موت کے منہ میں لے جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے خوراک میں قطعی طور پر شامل نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وہ وقت ہے کہ اس زہریلے کیمیکل سے فوری طور پر، ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔
دوسری طرف عالمی ادارہ صحت نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تسلیم کیا کہ ٹرانس فیٹس سے نجات ابھی بہت دور ہے ، مستقبل قریب میں اس ہدف کا حصول مشکل ہے۔ ڈبلیو ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ’ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس ‘ نے کہا کہ ٹرانس فیٹس کا انسانی صحت کو فائدہ نہیں ہے ، اس سے صحت پر بْرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں صحت کے نظام پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ٹرانس فیٹ کے خاتمے سے نظام صحت کے اخراجات میں کمی واقع ہوگی اور انسانی صحت پر بے شمار فائدے مرتب ہوں گے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے غذائی اور خوراک کے تحفظ فرانسسکو برانکا کا کہنا تھا کہ 60 ممالک جن کی مجموعی آبادی 3 ارب 40 کروڑ یا 43 فیصد آبادی میں موٹاپے پر قابو پانے کی پالیسی موجود ہے۔ 60 میں 43 ممالک موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین احتیاطی پالیسیاں اختیار کر رہے ہیں۔
ٹرانس فیٹ کو ’ ٹرانس اَن سیچوریٹیڈ فیٹی ایسڈز‘ یا پھر ’ ٹرانس فیٹی ایسڈز ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مختلف سبزیوں وغیرہ سے نکالا جانے والی ایسی چکنائی ہوتی ہے جو ڈبہ بند کھانوں ، کیکس ، ہاٹ چاکلیٹس وغیرہ میں شامل ہوتی ہے تاکہ وہ طویل مدت تک دکانوں کی شیلفوں میں محفوظ رہیں۔ جب سبزیوں وغیرہ سے ٹرانس فیٹ نکالا جاتا ہے، تب اس کی شکل تیل جیسی ہوتی ہے۔
پھر اسے ٹھوس چکنائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔اگلے مرحلے میں ایسی ٹھوس چکنائی مارجرین اور بناسپتی گھی کی صورت میں بازاروں میں فروخت ہوتی ہے۔
سبزیوں سے نکالی جانے والی چکنائی (بناسپتی گھی اور مارجرین وغیرہ) کا استعمال قریباً 100برس قبل شروع ہوا۔1950ء کے بعد اس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اس کے مضر اثرات کو نظر انداز کیا گیا حالانکہ اس وقت کی حکومتیں بھی جانتی تھیں کہ ٹرانس فیٹ میں غذائیت برائے نام بھی نہیں ہوتی ، بلکہ اسے صرف سستا ہونے کی وجہ سے مختلف کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
آج تک دنیا کے بیشتر ممالک میں ٹرانس فیٹ کے انسانی صحت کے لئے نقصانات واضح ہونے کے باوجود اسے استعمال کیا جاتا رہا ۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں کمپنیاں براہ راست اور ان کمپنیوں کو ٹرانس فیٹ کی تیاری کی اجازت دینے والی حکومتیں بلواسطہ طور پر شریک ہیں۔
پوری دنیا کے ماہرین صحت متفق ہیں کہ ٹرانس فیٹ اور دل کے امراض کے مابین گہرا تعلق ہے ۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے ایک جائزے میں بتایا گیا کہ ٹرانس فیٹ کے استعمال اور دل کے امراض میں گہرا تعلق ہے۔
1994ء میں امریکا میں، امراض قلب میں مبتلا ہوکر انتقال کرنے والے 30000 افراد کے بارے میں پتہ چلا کہ ان کی خوراک میں ٹرانس فیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی تھی۔
تب ماہرین نے اندازہ لگایا کہ 2006ء تک اس مصنوعی چکنائی کے سبب مرنے والوں کی تعداد سالانہ ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد حکومت اس مصنوعی چربی کے استعمال کے خلاف فعال ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی چکنائی کے سبب جسم میں غیر مفید کو لیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک جائزے میں بتایاگیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء سے ٹرانس فیٹ نکالنے پر دل کا دورہ پڑنے کے واقعات اوراس سے ہونے والی اموات میں چھ سے19فیصد تک کمی آسکتی ہے۔ ٹرانس فیٹ ایسڈ کی وجہ سے ایل ڈی ایل ( صحت کے لئے نقصان دہ کولیسٹرول ) بڑھ جاتا ہے اور ایچ ڈی ایل ( صحت کے لئے مفید کولیسٹرول ) کو کم کرتا ہے۔
دراصل مصنوعی چکنائی کے استعمال سے انسانی صحت کے لئے ضروری فیٹی ایسڈز بشمول اومیگا تھری کو میٹابولائز کرنے کی صلاحیت میں خلل واقع ہوتا ہے۔
نتیجتاً دل کی شریانوں کی دیواروں کی فاسفولیپڈ فیٹی ایسڈ کی ساخت میں تبدیلی رونما ہوتی ہے ، یوں امراض قلب پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے تاہم اس کا ذیابیطس کا مرض پیدا کرنے میں کتنا کردار ہے۔
اس پر تاحال تحقیق جاری ہے۔ ماہرین کا اتفاق ہے کہ بحیثیت مجموعی مصنوعی بنیادوں پر نکالے جانے والے تیل کے انسانی صحت پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فیٹی ایسڈز ریسٹورنٹس میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ جس علاقے میں لوگ ایسے ریسٹورنٹس میں زیادہ کھاتے پیتے ہیں ، وہاں موٹاپا ، بلند فشار خون اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے امراض زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
اگرچہ ٹرانس فیٹ اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے باہمی تعلق کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پایا جارہا ہے تاہم ایک تحقیقی رپورٹ میں ثابت کیا گیا ہے کہ اس مصنوعی چربی کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔
تمام ماہرین کا اتفاق ہے کہ ٹرانس فیٹ کے سبب موٹاپا بالخصوص پیٹ بڑھنے کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے دوران میں چھ برس تک جن بندروں کو مصنوعی چکنائی کھلائی گئی ، ان کے جسمانی وزن میں سات فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ دوسری طرف جن بندروں کو اصلی چربی کھلائی گئی ، ان میں وزن بڑھنے کی شرح محض ایک اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔
’ آرکائیو آف نیورولوجی ‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق سیچوریٹیڈ فیٹ اور اَن سیچوریٹیڈ فیٹ (ٹرانس فیٹ ‘ کی وجہ سے الزائمر کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں یادداشت ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور رویے پر نہایت برا اثر پڑتا ہے۔
2006ء میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرانس فیٹ کے سبب پراسٹیٹ کینسر بھی ہوتا ہے۔ ’ یورپین پروسپیکٹو انویسٹی گیشن ان ٹو کینسر اینڈ نیوٹریشن ‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرانس فیٹ کے استعمال سیچھاتی کے کینسر کے خطرات میں 75 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔
سن دوہزار سات میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کاربوہائیڈریٹس کے بجائے ٹرانس فیٹ سے توانائی حاصل کرنے کی کوشش خواتین کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ اس کے نتیجے میں بانجھ پن کے خطرات 73 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
سپین کے ماہرین نے ایک چھ سالہ جائزے کے دوران میں 12,059 افراد کی خوراک کا تجزیہ کیا ۔ پتہ چلا کہ جو لوگ سب سے زیادہ مصنوعی چکنائی کھاتے ہیں ان میں ڈپریشن کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ ہوتا ہے جو مصنوعی چکنائی نہیں کھاتے تھے۔
عالمہ ادارہ صحت ایک عرصہ سے مصنوعی چکنائی کے زیادہ استعمال سے خبردار کررہا ہے۔ ادارہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات میں ٹرانس فیٹ کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے کم استعمال کی ہدایت کی جاتی ہے۔
مثلاً جب بہترین احتیاطی پالیسیوں کی بات کی جاتی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ تمام کھانوں میں کْل چکنائی کے ہر 100 گرام میں صنعتی سطح پر تیار شدہ ٹرانس فیٹ کی مقدار زیادہ سے زیادہ 2 گرام ہو ۔ اسی طرح ایسی پالیسیوں کا تقاضا ہے کہ ٹرانس فیٹ کے سب سے بڑے ذریعہ ہائیڈرو جنیٹڈ تیل کی پیداوار پر پابندی عائد کی جائے یا پھر اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
ٹرانس فیٹ کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امراض کے ثبوت ملنے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ہدایات جاری ہونے کے بعد پوری دنیا میں حکومتوں نے قواعد و ضوابط تیار کرنا شروع کردیے۔
انھوں نے خوراک تیار کرنے والی تمام کمپنیوں کو پابند کردیا کہ وہ اپنی مصنوعات پر اجزائے ترکیبی واضح طور پر لکھیں، بالخصوص مصنوعی چکنائی استعمال کرکے خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں کو پابند کیا گیا۔ انھیں کہا گیا کہ ان کی خوراک میں ٹرانس فیٹ کی مقدار 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ڈنمارک دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ٹرانس فیٹ کے خلاف قانون منظور کیا ، اور یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سب سے کم مقدار میں ٹرانس فیٹ استعمال کرنے کی اجازت ہے یعنی محض ایک فیصد ۔ ڈینش حکومت کی کوششوں کا نتیجہ یوں نکلا کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران میں امراض قلب میں مبتلا ہوکر مرنے والوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکا میں کیلی فورنیا پہلی ریاست تھی جس نے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی چکنائی ( ٹرانس فیٹ ) پر مکمل پابندی عائد کی ۔کیلی فورنیا کی حکومت نے ٹرانس فیٹ کا استعمال کرنے والے کمپنیوں پر بھاری بھرکم جرمانے عائد کیے۔
یورپی یونین نے بھی اپنے تمام خطوں میں ٹرانس فیٹ کے2 فیصد فی 100 گرام سے بھی کم استعمال کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی۔ برطانیہ میں بھی عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی روشنی میں قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں ، وہاں مصنوعی چکنائی کے خلاف عوامی شعور کی سطح اس قدر بلند کی گئی کہ لوگوں نے از خود ہی اس کے استعمال سے گریز شروع کردیا۔ یہاں بعض ریٹیلرز اپنے ہاں ٹرانس فیٹ سے پاک مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔
سعودی عرب میں کوئی ایسی خوراک داخل نہیں ہوسکتی تھی جس پر وہاں کے طے شدہ معیار کے مطابق ٹرانس فیٹ کی شرح درج نہ ہو۔2020ء میں سعودی حکومت نے مصنوعی چکنائی پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی۔ سوئٹزر لینڈ میں بھی2008ء سے ٹرانس فیٹ پر مکمل پابندی عائد ہے۔
سویڈن بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہونے جارہا ہے جہاں مصنوعی چکنائی پر مکمل پابندی عائد ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے بھی2014ء میں ٹرانس فیٹ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی۔ اس کے نتیجے میں اس کے نظام صحت کے اخراجات میں 100ملین ڈالر سالانہ کی بچت ہوئی۔ اسی طرح آسٹریلیا ، آسٹریا اور بلجیم کی حکومتوں نے بھی مصنوعی چکنائی کے کم سے کم استعمال کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ برازیل میں بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ خوراک تیار کرنے والی کمپنیاں مصنوعات کے اوپر واضح طور پر ٹرانس فیٹ کی مقدار لکھیں۔ کینیڈا میں ہائیڈروجینیٹڈ تیل پر پابندی عائد کردی گئی۔ یادرہے کہ یہی تیل ٹرانس فیٹ کی تیاری میں بنیادی جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستان کی وزارت صحت نے بھی عالمی ادارہ صحت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ جون2023ء تک ٹرانس فیٹ کے استعمال میں خاطر خواہ کمی لائے گی ، تاہم اس دوران میں حکومت اور اس کے اداروں نے ٹرانس فیٹ کے خلاف عوامی شعور بہتر کرنے کی کم ہی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مارجرین اور بناسپتی گھی کے استعمال میں اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دنیا بھر میں ٹرانس فیٹ کے خلاف شعور بلند ہونے کے باوجود یہاں کے ماہرین صحت بھی ایسی پالیسیاں تیار کرنے پر زور نہیں دے رہے جن کے ذریعے خوراک تیار کرنے والوں کو 2فیصد فی 100 گرام کے پیمانے کی پابندی کروائی جائے۔
قارئین کرام ! ہماری حکومتیں دیگر ’’ زیادہ اہم امور‘‘ میں مصروف رہتی ہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ انھیں صحت عامہ کے تحفظ کے لئے پالیسیاں تیار کرنے اور نافذ کرنے کے لئے فرصت نہیں۔ آپ اپنے گھر کی حد تک ہر قسم کی مصنوعی چکنائی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کریں۔ تاکہ آپ اور آپ کے پیارے صحت مند زندگی گزار سکیں اور آپ کے گھریلو نظام معیشت پر بیماریاں اور ان کا علاج بوجھ ثابت نہ ہوسکے۔

Top